کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
كتاب الفقہ على المذاهب الأربعة میں مہر ( مباحث الصداق ) پر 85 صفحات ہیں۔ مہر کے مؤجل یا معجّل ( تأجيل الصداق وتعجيله) کے مسائل چار صفحات میں بیان ہوئے ہیں۔ اس بارے میں اگر چہ فقہاء کے درمیان بعض اختلافات ہیں مگر وہ تمام تر جزئی ہیں۔ ان جزئی اختلافات سے قطع نظر مختلف فقہاء کے اقوال کا خلاصہ صاحب کتاب کے الفاظ میں یہ ہے : الحنفیة ــ قَالُوا : يَجُوزُ تَأْجِيلُ الصَّدَاقِ، وَتَعْجِيلُهُ كُلُّهُ، أَوْ بَعْضُهُ، وَلَكِنْ يُشْتَرَطُ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا . ( حنفیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے۔ اس کا کل یا جزء فوری طور پر دیا بھی جا سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ مدت غیر متعین نہ ہو )۔ المالکیة ــ قَالُوا: فَإِذَا كَانَ الصَّدَاقُ غَيْرَ مُعَيَّنٍ فَإِنَّهُ يَجُوزُ كُلُّهُ، أَوْ بَعْضُهُ، بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا ۔ یعنی مالکیہ کا قول ہے کہ مہر جب غیر معین ہو تو اس کا کل یا جزء جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول (غیر متعین ) نہ ہو۔ الحنابلة ــ قَالُوا : يَجُوزُ أَنْ يُؤَجَّلَ الصَّدَاقُ كُلُّهُ، أَوْ بَعْضُهُ، بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا . ( حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے کہ مہر کا کل یا جزء مؤخر کیا جائے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ الشافعیة ــ قَالُوا : يَجُوزُ تَأْجِيلُ الصَّدَاقِ بِشَرْطِ أَنْ لَا يَكُونَ الْأَجَلُ مَجْهُولًا، سَوَاءٌ كَانَ الْمُؤَجَّلُ كُلَّ الصَّدَاقِ أَوْ بَعْضَهُ. (شافعیہ کا کہنا ہے کہ مہر کا تاخیر جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ خواہ مہر کا کل حصہ موجل ہو یا اس کا جزئی حصہ )۔ ( الفقہ علی المذاہب الأربعة، بیروت 2003، جلد 4، صفحہ 141-138) زیادہ مہر نہیں مہر رقم میں بھی دی جا سکتی ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مقدار حسب استعداد مقرر کی جائے۔ وہ اتنی ہی ہو کہ آدمی سہولت کے ساتھ اس کو اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader