Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

زیادہ مہر نہیں

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت ادا کر سکے ۔ مہر کی کم سے کم حد کے بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں۔ تاہم ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ اتنی ہو کہ اس کے ذریعے سے ضرورت کی کوئی چیز خریدی جاسکے۔ ہر وہ رقم مہر بن سکتی ہے جو کسی چیز کی قیمت ہو (مُحَلَّلٌ مَا صَحَّ ثَمَنًا صَحَّ صَدَاقًا) (فقہ علی المذاہب الاربعہ ، جلد 4، صفحہ 100۔ احادیث میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں جس میں زیادہ مہر مقرر کرنے کی ہمت افزائی کی گئی ہو۔ اس کے برعکس ، بہت سی روایتیں ہیں جن میں کم مہر مقرر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ ہمیشہ تلقین کا ہوتا ہے، نہ کہ تحریم کا۔ چنانچہ زیادہ مہر کو اگر چہ بالکل ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے مگر تمام روایتیں اسی کے حق میں ہیں کہ مہر زیادہ نہ باندھی جائے۔ چند روایات یہ ہیں: (1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا“ (صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر 4034)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ (2) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ”قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا.“ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4095)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی برکت میں سے یہ ہے کہ اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔ (3) أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا (مستدرک الحاکم ، حدیث نمبر 2732)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ (4) عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page