Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: ”كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا“، قَالَتْ: ”أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟“ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: ”نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ“ (صحيح مسلم، حدیث نمبر 1426)۔ یعنی حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا۔ انہوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے۔ راوی نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نصف اوقیہ۔ یہ تقریباً پانچ سو درہم ہوا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے تھا۔ (5) ام حبیبہ کا مہر سب سے زیادہ تھا۔ روایت کے مطابق، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2107)۔ یعنی نجاشی نے ام حبیبہ کی شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، اور ان کا مہر چار ہزار درہم آپ کی طرف سے نجاشی نے خود مقرر کیا تھا۔ غیر افضل طریقہ روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانता कि مهر میں کسی نے چار سو درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ اور اگر مہر میں زیادتی تقوی اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جاسکتے تھے ۔ عَنْ عُمَرَ قَالَ: لَوْ كَانَ الْمَهْرُ سَنَاءً وَرِفْعَةً فِي الْآخِرَةِ، كَانَ بَنَاتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسَاؤُهُ أَحَقَّ بِذَلِكَ (کنز العمال، حدیث نمبر 45797)۔ یعنی حضرت عمر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page