غیر افضل طریقہ
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
نے کہا: مہر اگر آخرت میں بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اور آپ کی بیویاں اس کی زیادہ مستحق تھیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو، تم عورتوں کے مہر زیادہ نہ باندھو، اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے یا کسی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا ہے تو میں زیادہ مقدار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے تو قریش کی ایک عورت سامنے آئی۔ اس نے کہا اے امیر المؤمنین، اللہ کی کتاب زیادہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول۔ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں۔ اور اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ۔ اور اگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو (طلاق کے بعد) اس میں سے کچھ نہ لو (النساء، 4:20)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے (کُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ) آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ منبر پر آئے اور لوگوں سے کہا: إِنِّي نَهَيْتُكُمْ أَنْ تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ أَلَّا فَلْيَفْعَلْ رَجُلٌ فِي مَالِهِ مَا بَدَا لَهُ (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 598)۔ یعنی میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا تھا۔ اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں جو چاہے کرے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں زیادہ مہر باندھنا اگر چہ خالص قانونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مہر کم تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنا یا اپنی بیٹیوں کا مہر زیادہ مقرر کیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader