Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

موجودہ سماج

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ سماج انڈین ایکسپریس (24 نومبر 1988) میرے سامنے ہے۔ اس کے صفحہ اول پر بتایا گیا ہے کہ دہلی کی ایک 26 سالہ عورت پرویش کو اس کی ساس برسرانی نے مار ڈالا۔ اس نے اپنی بہو کے اوپر مٹی کا تیل انڈیل دیا اور پھر آگ لگادی۔ صرف اس لیے کہ پرویش نے سسرال والوں کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا تھا کہ وہ اپنے میکے سے دس ہزار روپیہ لا کرانہیں دے۔ اگلے دن دوبارہ انڈین ایکسپریس (25 نومبر 1988) کے صفحہ اول پر یہ سرخی ہے: Another dowry victim خبر کے مطابق دہلی کی 26 سالہ عورت اروین رانا کو اس کے سسرال والوں نے مار ڈالا۔ دوبارہ وجہ یہی تھی کہ سسرال والوں کے جہیز کے مطالبہ کو اس نے پورا نہیں کیا تھا۔ اس قسم کی خبریں ہر روز اخبارات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ پولیس ان اموات کو جہیز کی موت (Dowry death) کہتی ہے۔ جہیز کی خاطر موت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بناء پر راجیہ سبھا میں اس کی بابت سوال اٹھایا گیا۔ وزارت داخلہ کے منسٹر آف اسٹیٹ مسٹر پی چدمبرم نے ہندوستان ٹائمس (25 نومبر 1988) کے مطابق جو اعداد و شمار بتائے، وہ یہ ہیں: سال موتیں 1985 999 1986 1319 1987 1786

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page