نکاح کا معاملہ
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا کرنا اس کے لیے عین جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ اپنی عفت کو محفوظ رکھے۔ تاریخ میں بہت سی ایسی دینی شخصیات پائی جاتی ہیں جنہوں نے نکاح نہیں کیا اور پوری زندگی غیر ازدواجی حالت میں گزار دی۔ پیغمبروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی ایک مثال ہیں۔ امت محمدی میں بھی کئی ایسے ممتاز بزرگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے ساری عمر نکاح نہیں کیا۔ مثال کے طور پر امام نووی (وفات 676) اور امام ابن تیمیہ (وفات 728)۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں سید جمال الدین افغانی وغیرہ۔ اگر نکاح مطلق طور پر مطلوب ہوتا اور نکاح سے اعراض دین سے اعراض کے ہم معنی ہوتا تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ مذکورہ قسم کی شخصیات نکاح کے بغیر زندگی گزاریں اور اسی حال میں دنیا سے چلی جائیں۔ فقہ کی زبان میں، نکاح حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیرہ ہے۔ یعنی وہ بذات خود مطلوب نہیں ہے بلکہ ایک اور ضرورت کے تحت مطلوب ہے اور وہ بقائے نسل اور پاکدامنی ہے۔ چونکہ مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی تعلق کے بغیر نسل انسانی کا باقی رہنا ممکن نہیں اس لیے نکاح کی حیثیت ایک اجتماعی فریضہ کی ہے۔ لیکن وہ ہر فرد پر لازم نہیں۔ کوئی فرد اگر اپنے ذاتی مصالح کی بنا پر غیر ازدواجی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے تو ایسا کرنا اس کے لیے عین جائز ہوگا۔ ایسی حالت میں شریعت اس سے پاک دامنی کا تقاضا کرے گی، نہ کہ جبری ازدواج کا۔ نکاح کی دینی اہمیت اصلاً اس اعتبار سے ہے کہ وہ بقائے نسل کے مقصد کو حاصل کرنے کا جائز طریقہ ہے۔ مرد اور عورت اگر نکاح کے بغیر باہم ملیں تو اس کے ذریعہ سے بھی نسل انسانی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مگر یہ طریقہ اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے۔ اسلام میں بقائے نسل مطلوب ہے مگر یہ بقاء نسل نکاح کی صورت میں ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے بغیر۔ بعض افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو یہ محسوس کریں کہ اگر وہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے اپنے کو آزاد رکھیں تو وہ عفیف بھی رہیں گے اور اسی کے ساتھ اعلیٰ انسانی مقاصد کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader