سوال و جواب
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ فورا یہ کرتا ہے کہ خود اپنے ذہنی معیار کے مطابق، اُس کا حل تلاش کرنے لگتا ہے۔ مگر جب اس کے خود ساختہ فارمولے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، تو وہ فریق ثانی کو الزام دینے لگتا ہے۔ اس کی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں تو صحیح ہوں، یہ دراصل دوسرا فریق ہے جو مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ یہ آئڈیل ازم (idealism) کا طریقہ ہے۔ مگر اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں آئڈیل ازم کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ Idealism can not be achieved in this world. آپ کے لیے ذہنی تناؤ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ پریکٹیکل طریقہ ہے۔ یعنی یہ دیکھنا کہ موجودہ صورت حال میں عملی طور پر کیا ممکن ہے، نہ یہ کہ معیاری اعتبار سے کیا ہونا چاہیے۔ اسی طریقے کا نام حکمت ہے۔ اور ہر مسئلہ صرف حکمت کے ذریعے حل ہوتا ہے۔ پریکٹیکل طریقہ اختیار کرنے کا مطلب پسپا ہونا یا شکست قبول کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد اپنے لیے فرصتِ عمل تلاش کرنا ہے۔ ذہنی تناؤ کے ساتھ کوئی شخص، مواقع کو استعمال (avail) نہیں کرسکتا۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ آدمی یک طرفہ طور پر ایڈجسٹ کرلے، تا کہ وہ مواقع کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوسکے۔ ذہنی تناؤ ایک قسم کی نفسیاتی خودکشی ہے۔ ذہنی تناؤ ہمیشہ کسی خارجی سبب سے پیدا ہوتا ہے۔ اور آدمی اُس سے متاثر ہو کر خود اپنے آپ کو اس کی سزا دینے لگتا ہے۔ ایسی نادانی آپ کیوں کریں۔ اس خود اختیار کردہ سزا سے بچنے کی آسان تدبیر یہ ہے کہ آدمی آئڈیل ازم کو چھوڑ دے، وہ پریکٹیکل بن جائے۔ وہ اُس فارمولے کو اختیار کرے جس کو ایک شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader