سوال و جواب
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
نے مثال کی صورت میں اس طرح بیان کیا ہے اگر تم چو کور ہو، اور تم کسی گول خانے میں پڑ جاؤ تو اپنے آپ کو گول بنالو۔ یہ شکست کا فارمولا نہیں ہے، بلکہ وہ فتح کا فارمولا ہے۔ کیوں کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو نفسیاتی ہلاکت سے بچا لیتا ہے۔ سوال میری شادی 2004 میں ہوئی، اس میں میری سسرال والوں نے مجھے کافی جہیز دیا جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ 10 تولہ سونا بھی موجود ہے۔ اس وقت تو ان کو میں نے منع کیا تھا کہ آپ یہ سب چیزیں نہ دیں، لیکن وہ نہیں مانے۔ ظاہر ہے کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا اور میں بھی یہ سارا سامان لے کر گھر چلا آیا۔ اب جیسا کہ آپ کی تحریر میں مسلسل پڑھنے سے میری ڈی کنڈیشنگ ہو رہی ہے تو خدا کی پکڑ اور آخرت کے ڈر سے میں یہ سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ یہ چیز کہیں آخرت میں گھاٹے کا سبب نہ بن جائے۔ آپ مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ کیا مجھے اس کی رقم اپنے سسر کو واپس کرنا چاہیے یا پھر اس کی کوئی اور دوسری صورت ہے جس سے اس کی تلافی ہو سکے۔ (شکیل احمد، اندور) جواب شادیوں میں جہیز کا موجودہ طریقہ بلا شبہ ایک بدعت ہے۔ اس اعتبار سے جہیز کے رواج کو ختم کیا جانا چاہیے۔ لیکن ملے ہوئے جہیز کا معاملہ اس سے الگ معاملہ ہے۔ اس کی واپسی کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر ممکن ہو تو آپ اس کو کسی تعمیری کام میں استعمال کریں، مثلاً اپنے لیے گھر بنانا، دعوہ ورک کرنا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader