Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ خدمات انجام دے سکیں گے۔ ان افراد کے لیے ایسا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مخصوص حالات میں باعث ثواب بھی ہے۔ ایک شادی یا کئی شادی قرآن کی سورہ النساء میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ ایک آدمی چار خواتین سے نکاح کر سکتا ہے(4:3)۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چار نکاح کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک استثنائی حکم ہے، نہ کہ عمومی حکم۔ عام حکم تو یہی ہے کہ ایک آدمی صرف ایک نکاح کرے، لیکن جب کوئی حقیقی ضرورت پیش آجاۓ، اس وقت ایک آدمی ایک سے زیادہ نکاح کر سکتا ہے، یعنی دو یا تین یا چار۔ یہ ضرورت اصلاً صرف ایک وجہ سے پیش آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی حادثے کی بنا پر معاشرے میں عورتوں کی تعداد از زیادہ (surplus) ہو جائے اور مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں کم ہو جائے ۔ ایسی حالت میں ایک نکاح کے اصول کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سماج میں بہت سی عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں۔ کسی سماج میں عورتیں جب مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہو جائیں تو یہ ایک نازک موقع ہوتا ہے۔ اس وقت انتخاب (choice) ایک نکاح اور کئی نکاح کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ انتخاب ایک نکاح اور صنفی انارکی کے درمیان ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں معاشرے کو صنفی انارکی سے بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہوتی کہ تعدد ازدواج کے اصول کو اختیار کر لیا جائے اور ایک مرد کو کئی نکاح کی اجازت دے دی جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کا فطری طریقہ یہی ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد۔ عورت کے اندر فطری طور پر سکون کے خلاف منفی جذبات ہوتے ہیں۔ یہی واقعہ اس بات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page