زوجین کا تعلق
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی ۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون (peace of mind) کا ذریعہ ہیں۔ خالق نے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے محبت رکھی ہے، تاکہ یہ مشترک سفر حسن رفاقت کے ساتھ انجام پائے۔ عورت اور مرد کو یہ سکون ابتدائی طور پر ایک دوسرے کارفیق حیات (life partner) بننے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اعلیٰ صورت میں یہ سکون دونوں کو ذہنی سطح پر حاصل ہوتا ہے ۔ یہ سکون دونوں کو اس وقت ملتا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔ دونوں مسلسل طور پر ایک دوسرے سے فکری تبادلۂ خیال کرتے رہیں۔ اگر آپ پتھر کے دو ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو اس کے بعد وہاں ایک چنگاری نکلے گی۔ یہ اسپارکنگ (sparking) فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو دونوں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ یہ اصول جس طرح مادی دنیا کے لیے ہے، اسی طرح وہ انسانی دنیا کے لیے ہے۔ عورت اور مرد کو نکاح کی صورت میں یکجا کرنے سے یہی مقصود ہے۔ خالق کی منشا یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد دونوں مسلسل طور پر ساتھ رہیں ۔ دونوں زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال (exchange) کرتے رہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وہ عمل کرتے رہیں جس کو میوچول لرننگ (mutual learning) کہا جاتا ہے۔ اس طرح نکاح کی زندگی دونوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader