Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

حل میں اپنا اپنا حصہ ادا کر سکے۔ ایک شریک حیات ایک اعتبار سے اپنا حصہ ادا کرے، اور دوسرا شریک حیات دوسرے اعتبار سے: فطرت کے نظام میں یکسانیت (uniformity) موجود نہیں، اس لیے اگر عورت اور مرد کے تعلق کو یکسانیت کے اصول پر قائم کیا جائے تو ہمیشہ جھگڑا ہوتا رہے گا۔ ہر ایک ذمے داری کو دوسرے فریق کے اوپر ڈالے گا، اور پھر نزاع کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے برعکس، صنفی حصے داری کے اصول کو اختیار کرنے کی وجہ سے بلا اعلان تقسیم کار (division of labour) کا طریقہ رائج ہو جائے گا۔ دونوں خود اپنے فطری تقاضے (natural urge) کے تحت اپنے اپنے دائرے میں مصروف کار رہیں گے۔ ایک دوسرے سے الجھنے کا طریقہ ختم ہو جائے گا، اور ایک دوسرے سے معاونت کا طریقہ رائج ہو جائے گا۔ قوامیت یا باس ازم قرآن کی سورہ نمبر چار میں ارشاد ہوا ہے کہ: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (4:34) یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم ہیں۔ حاکم کا لفظ اپنے ساتھ مخصوص روایات رکھتا ہے۔ اس لفظ سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ ایک حاکم ہے اور دوسرا محکوم، مگر قوام کا یہ مطلب نہیں۔ قوام کا مطلب صرف انتظام کار ہے، نہ کہ حاکم یا دوسرے سے برتر۔ موجودہ زمانہ میں باس اور باس ازم (bossism) کا تصور ایک معروف تصور ہے۔ اس کی مثال سے قوام کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قوام کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد گھر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page