Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر باس (boss) کی حیثیت رکھتا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح کسی ادارے یا کمپنی کا ایک باس ہوتا ہے۔ یہ باس کمپنی کے لیے ایک تنظیمی ضرورت ہوتا ہے، وہ کمپنی کا حاکم نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے باس ہمیشہ درست ہوتا ہے (boss is always right)۔ اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ باس دوسرے سے برتر ہے۔ یہ اصول صرف اس لیے ہے کہ کسی تنظیم میں جب تک ایک شخص کو اتھارٹی نہ مانا جائے تنظیم کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ اسی طرح گھر بھی ایک ادارہ۔ اس ادارے کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک تنظیمی اتھارٹی (management authority) ضروری ہے۔ قرآن میں اسی اعتبار سے مرد کو قوام کہا گیا ہے۔ کسی گھر کا قوام اس کے مساوی ممبران کے درمیان ایک ناظم کا درجہ رکھتا ہے۔ اس اصول کو نہ ماننا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ ہر گھر اناری کا شکار ہو کر رہ جائے۔ باس ازم ایک ذمہ داری ہے، وہ ایک کے اوپر دوسرے کی برتری کا ٹائٹل نہیں۔ اسی طرح قوامیت بھی ایک ذمہ داری ہے، وہ ایک کے اوپر دوسرے کی برتری کے ہم معنی نہیں۔ یہ ایک انتظامی ضرورت کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی قسم کی فضیلت کا معاملہ۔ عملی ضرورت اور نظریاتی شرف کے فرق کو اگر پوری طرح سمجھ لیا جائے تو قوام اور قوامیت کے معاملے کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ تعلیم اور خواتین تعلیم کی اہمیت جتنی زیادہ مردوں کے لیے ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی اہمیت عورتوں کے لیے بھی ہے۔ تعلیم کے بغیر دونوں ہی ادھورے ہیں۔ تعلیم ہر عورت اور مرد کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کو دونوں میں سے کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ تعلیم کو نظر انداز کرنا اپنے لیے یہ خطرہ مول لینا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مطلوب اعلیٰ تک نہ پہنچیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page