کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
معاشرتی اقدار بہت زیادہ بدل گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ ایک عملی ضرورت بن گئی ہے کہ شوہر کے ساتھ بیوی بھی کمانے والی فرد بن کر اپنا کردار ادا کرے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں مہنگائی کی بنا پر یہ عام طور پر صورتِ حال ہے کہ مرد کی اکیلی کمائی گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ عورت بھی کمائی میں حصہ دار بنے۔ بِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِم کے معاملے میں بقدر استطاعت عورت بھی مرد کی شریکِ حال بنے۔ سیکولر سوسائٹی میں یہ طریقہ عام طور پر رائج ہو چکا ہے۔ مسلم سماج میں اس طریقہ کو اگر اختیار کیا جائے تو اس میں بہ ظاہر کوئی قباحت نہیں ہے۔ آہ یہ مسلمان کوئی آدمی اسی وقت تک مسلمان نظر آتا ہے جب تک وہ کسی آزمائش میں نہ پڑا ہو ۔ آزمائش میں پڑتے ہی ہر آدمی نا مسلمان بن جاتا ہے۔ آپ جس شخص کا چاہیں جائزہ لے کر دیکھ لیں۔ آپ اس میں کوئی استثناء نہ پائیں گے۔ ایک شخص اپنے گھر میں سیدھی سادی زندگی گزارتا ہے۔ بظاہر وہ ایک سادہ مسلمان ہے۔ مگر جب اس کی لڑکی کی شادی آتی ہے تو اچانک وہ دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے گھر میں وہی سب ہوتا ہے جو ایک عام دنیا دار کے گھر میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی لڑکی کو تمام رسوم اور تمام جاہلی آداب کے ساتھ رخصت کر کے خوش ہوتا ہے۔ مگر خدا کے فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں کہ ایک گھر ہے جس سے اسلام کا جنازہ نکالا گیا۔ ایک شخص لوگوں کو دیکھنے میں معقول نظر آتا ہے۔ وہ دین اور اخلاق کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن کسی واقعہ سے اگر اس کے دل میں پر چوٹ پڑ جائے تو اس کے بعد اس کے معقول خول سے ایک اور انسان برآمد ہوتا ہے جو ویسا ہی نامعقول ہوتا ہے جیسا کوئی ایسا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader