Urdu book · کاروانِ ملّت

باب اول

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایسے رہنما اٹھے جن کا مقصد یہی تھا۔ یعنی ملت مسلمہ کا احیاء۔ ان رہنماؤں کے سامنے سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ قرآن کی وہ کون سی آیت ہے جو اس معاملہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے، اور جس کی روشنی میں ہمیں اپنے عمل کا نظام بنانا چاہئے۔ تقریبا بلا استثناء ہر ایک نے یہ کیا کہ اس نے خلافت و امامت کی آیات کو اپنے لیے رہنما آیت قرار دیا : كنتم خير أمة آخر رجت للناس تأمرون تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے۔ بالمعروف وتنهون عن المنكر تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو ۔ ( آل عمران ( ۱۱۰ ) موجودہ حالات میں مسلمانوں کے احیاء کے لئے کیا کرنا ہے ، اس کا حکم ہمارے رہنماؤں نے مذکورہ قسم کی آیتوں سے نکالا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک اول دن سے مسلمانوں کو مجاہدانہ اقدام اور قیام امامت کا سبق دینے لگا۔ ہر ایک نے مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور بٹھانا شروع کیا کہ تم دنیا کے فوجدار ہو ، اٹھو اور دنیا کو مسخر کر کے خلافت ارضی کا مقام سنبھالو۔ اقبال نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا : سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا ، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا یہی بات مولانا ابوالحسن علی ندوی نے ان الفاظ میں کہی ہے : مسلمان اپنے دین کی رو سے دنیا کے محتسب اور خدائی فوجدار ہیں۔ جس دن وہ بیدار ہوں گے اور اپنا فرض منصبی انجام دیں گے، وہ مشرق اور مغرب کی قوموں کے لئے روز حساب ہو گا " ( عروج وزوال ، صفحہ ۳۹۷ ) مولانا موصوف دوسری جگہ " احتساب کائنات " کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : امت مسلمہ پر عالمی نگرانی ، اخلاق و رجحانات ، انفرادی و بین اقوامى طرز عمل کے احتساب ، انصاف کے قیام ، شہادت حق ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے : " اسلام کے اثرات و احسانات ، صفحه (۱۲۴) یہی موجودہ زمانہ کے تمام مفکروں اور رہنماؤں کا معاملہ ہے۔ ہر ایک نے خلافت و امامت کی آیتوں کو اپنا اولین رہنما بنایا۔ ان کے الفاظ اور ان کی تعبیرات اگر چہ ایک دوسرے سے جدی تھیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کا خلاصہ ایک تھا۔ یعنی مسلمانوں کو دنیا کا فوجدار بننے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page