باب اول
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
کی دعوت دینا۔ آزاد سبحانی مسلمانوں کو تلقین کرتے تھے کہ آپس میں اس طرح سلام کیا کرو۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ سمن خلیفۃ اللہ ۔ کچھ دوسرے لوگ اس بھونڈے پن تک نہیں گئے۔ انھوں نے اسی بات کو زیادہ مہذب انداز میں بیان کیا جس کی ایک مثال اوپر کے اقتباس میں نظر آتی ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کے احیاء کے لئے عمل کا آغاز کہاں سے کرنا ہے، اس کا حکم ہمارے رہنماؤں نے امامت اور قیادت جیسی آیتوں سے اخذ کیا۔ ان کا یہ استنباط غلط تھا، چنانچہ ان کا سارا عمل غلط ہو کر رہ گیا۔ ہمارے رہنماؤں کی اٹھائی ہوئی تحریکیں اس فارسی شعر کا مصداق بن گئیں کہ معمار جب پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے تو اس کے بعد فریا تک دیوار ٹیڑھی ہو جاتی ہے : خشت اول چون نهد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج ایک مشہور مسلم رہنما نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : " تم ہی تو ہو جس نے قیصر وکسری کے تخت الٹ دئے تھے "۔ یہ ایک بے اصل کلام ہے۔ اس سے شبہہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان گو یا دور اول کے مسلمانوں کا تسلسل ہیں۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان دور اول کے مسلمانوں کی بعد کی نسل ہیں۔ مزید یہ کہ عقیدہ اور کردار کے پہلو سے موجودہ مسلمانوں کی جو حالت ہے ، اس کے اعتبار سے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان دور اول کے مسلمانوں کی اگلی زوال یافتہ نسل ہیں۔ ان حقائق کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ مسلم نسلوں کے معاملہ میں قرآن کا حکم جاننے کے لئے صحیح اور متعلق آیت حسب ذیل ہے : الم یأن للذین آمنوا ان تخشع قلوبهم کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان لذکر الله وما منزل من الحق ۔ ولا يكونوا کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں ۔ اور كالذين اوتوا الكتاب من قبل فطال اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان عليهم الامد فقست قلوبهم وكثير لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی منهم فاسقون ۔ اعلموا ان الله يحيی تھی ۔ پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader