Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح اعمال قرآن میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ درست بات (قول سدید) کہو ۔ اگر تم ایسا کروگے تو اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح فرمائے گا اور تم کو کامیابی عطا کرے گا (الاحزاب - ۷۰، ۷۱) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ درست بات بولنے سے اعمال اور معاملات کی اصلاح کیوں کر ہو جائے گی ۔ جواب یہ ہے کہ قول سے سوچ بنتی ہے اور سوچ سے عمل بنتا ہے ۔ آدمی جب درست اور ٹھیک مطابق واقعہ بات کہے گا تو اس کی سوچ بالکل صحیح رہے گی ۔ اور جب سوچ صحیح ہوگی تو اس سے جو عمل ظاہر ہوگا وہ بھی یقیناً صحیح ہوگا ۔ اس کے برعکس جب قول درست نہ ہو تو سوچ اور عمل دونوں غلط ہوتے چلے جائیں گے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب کو کسی گروہ کی طرف بھیجتے تھے تو ان سے کہتے تھے کہ تم لوگوں کو بشارت دینا ، نفرت نہ دلانا ۔ تم آسانی کی بات کہنا ، سختی کی بات نہ کہنا (بشّروا ولا تنفروا ويسّروا ولا تعسّروا) مشكاة المصابيح ۲/ ۱۰۹۹ اگر آپ بشارت اور یسر والے الفاظ بولیں تو سننے والوں کے اندر امید اور حوصلہ کا ذہن بنے گا ۔ اس کے بعد وہ امکانات کے میدان میں عمل کی تدبیر نکالیں گے اور اس میں محنت کر کے کامیابی حاصل کریں گے ۔ اس کے برعکس اگر آپ لوگوں کے سامنے نفرت اور عُسر کے الفاظ بولیں تو اس سے سننے والوں کے اندر ناامیدی اور دل شکستگی کا مزاج پیدا ہوگا ۔ وہ یہ صلاحیت کھو دیں گے کہ اپنی قوتوں کو عمل میں لاکر اپنے مستقبل کی بہتر تعمیر کر سکیں ۔ اس کی مثال لیجیے ۔ پچھلی صدی میں مسلم قوموں پر برطانیہ کا تسلّط قائم ہوگیا تھا ۔ اب اس کی جگہ پر سارے عالم اسلام میں امریکہ غالب حیثیت حاصل کیے ہوئے ہے ۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے تمام مسلمان برطانیہ کو اسلام کا دشمن نمبر ایک کہتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سازش کر کے مسلم دنیا پر قابض ہو گیا ہے ۔ اب تمام دنیا کے مسلمان امریکہ کو اسلام کا دشمن نمبر ایک کہہ رہے ہیں ۔ دوبارہ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے سازش کے ذریعہ عالم اسلام پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ یہ صورت واقعہ کے اظہار کے لیے غلط لفظ بولنا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page