Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں قوموں کی حالت میں تبدیلی اللہ کے قانون کے تحت ہوتی ہے۔ اور وہ قانون یہ ہے کہ کسی قوم کی داخلی حالت (ما با نفس) میں جب تغیر واقع ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی خارجی حالت (ما بقوم) میں بھی تغیر واقع ہو جاتا ہے (الانفال ۵۳، الرعد ۱۱) اس قرآنی بیان کے مطابق، مغربی قوموں کے بارے میں مسلمانوں کا مذکورہ بیان قولِ سدید کے خلاف قرار پاتا ہے۔ اس کے مطابق ، صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی استعداد میں کمی اور مغربی قوموں کی استعداد میں اضافہ نے یہ صورت حال پیدا کی ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں قولِ سدید یہ ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ مغربی قومیں ترقی کے اعتبار سے نمبر ایک پر پہو نچ گئی ہیں اور مسلمان ترقی کے اعتبار سے نمبر ۲ پر چلے گئے ہیں۔ دونوں گروہوں کے درمیان اسی فرق نے یہ حالت پیدا کی ہے کہ ایک غالب ہو گیا ہے اور دوسرا مغلوب ۔ اس معاملہ میں مسلمان اگر قولِ سدید بولتے۔ یعنی وہ یہ کہتے کہ موجودہ زمانہ میں مغربی ممالک اپنی قومی صلاحیت میں آگے بڑھ گئے ہیں ، اور ہم اپنی قومی صلاحیت میں ان کے مقابلہ میں پیچھے چلے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں کے اندر خود تعمیری کی سوچ ابھرتی۔ ان کے اندر اپنے پچھڑے پن کا احساس جاگتا۔ اس کے بعد تمام مسلمان اپنی کمیوں کو دور کرنے میں لگ جاتے۔ اس طرح ان کی اصلاحِ اعمال ہوتی، وہ اپنی صلاحیت میں اضافہ کرتے۔ اور آخر کار اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرلیتے۔ اس کے برعکس جب انھوں نے مغربی قوموں کے معاملہ کو سازش اور ظلم کا معاملہ بتایا تو ان کی پوری سوچ منفی سوچ بن گئی۔ ان کے اندر صرف دوسروں کے خلاف نفرت اور جھنجھلاہٹ کے جذبات ابھرے۔ وہ اپنی مصیبت کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھ کر ان کے خلاف فریاد کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اور معلوم ہے کہ فریاد و ماتم سے کسی کا معاملہ کبھی درست نہیں ہوتا۔ چیلنج نہ کہ تعصب یہی معاملہ ہندوستان جیسے ملکوں کا ہے۔ یہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو ان کے مقابلہ میں اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ سماجی اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں ان کو اکثریتی فرقہ کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب زمین پر بسا یا تو اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page