Urdu book · کاروانِ ملّت

کامیابی کی شرط

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، اس کے برعکس، امن کے اصولوں پر مبنی تھا۔ تاہم اس دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہے۔ یہاں ہمیشہ ”فریق ثانی“ کا مسئلہ موجود رہتا ہے۔ فریق ثانی اگر کسی حال میں اپنی ضد کو نہ چھوڑے۔ وہ آخری حد تک ظلم پر قائم رہے تو امن پسندی کی تمام تر کوششوں کے باوجود بعض اوقات دفاعی کارروائی ایک ناگزیر برائی بن جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریق ثانی کے ہر وار کو یک طور پر سہا۔ آپ نے نفرت کے جواب میں محبت کی۔ سب و شتم کے جواب میں دعائیں دیں۔ ایذا رسانی کے جواب میں صبر کیا۔ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آپ مشتعل نہیں ہوئے۔ متشددانہ کار روائیوں کو اعراض کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی۔ اس قسم کی امن پسندانہ کوششوں کے باوجود کبھی ایسا ہو کہ فریق ثانی کی بڑھی ہوئی ضد اور جارحیت کی بنا پر کوئی بھی پر امن تدبیر کارگر نہ ہوسکی۔ اور آخر کار دفاعی طور پر ٹکراؤ کی نوبت آگئی۔ تاہم دفاعی کار روائی میں بھی آپ نے پوری طرح اس کا اہتمام کیا کہ کم سے کم تشدد کے ذریعہ مقصد حاصل ہوسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں اس قسم کا بعض ٹکراؤ جو پیش آیا اس کی حیثیت استثناء کی تھی نہ کی عموم کی۔ اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ استثناء کو ہمیشہ عموم کے تحت شمار کیا جاتا ہے نہ یہ کہ عموم کو استثناء کے تحت شمار کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page