اصلاح اعمال
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کہا کہ تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے (البقره (۳۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں مختلف افراد اور مختلف گروہوں کے درمیان مقابلہ اور مسابقت جاری ہوگا۔ ہر ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہے گا۔ اس کے نتیجہ میں باہمی ٹکراؤ ہوگا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات دشمنی کی نوبت آجائے گی ۔ اس قرآنی بیان کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ چیلنج کا معاملہ ہے۔ خدا نے اس دنیا کو چیلنج کا مقام بنایا ہے۔ یہ چیلنج کسی نہ کسی صورت میں ہر ایک کو پیش آتا ہے۔ اگر اس کو چیلنج کہا جائے تو یہ اس معاملہ میں قولِ سدید ہوگا۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے اس کو تعصب اور زیادتی کے الفاظ میں بیان کیا جو بلا شبہ قولِ غیر سدید کے ہم معنی تھا۔ اگر اس صورتِ حال کو چیلنج کہا جائے تو اس سے مقابلہ کا ذہن پیدا ہوگا۔ لوگ سوچیں گے کہ ہم کو ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہ ذہن لوگوں کی صلاحیتوں کو جگا کر انھیں اس قابل بنائے گا کہ وہ پیش آمدہ چیلنج سے نمٹ سکیں۔ مگر جب اس معاملہ کو تعصب اور زیادتی کے الفاظ میں بیان کیا گیا تو اس سے منفی نفسیات پیدا ہوئی۔ لوگوں کو صرف یہ نظر آیا کہ وہ اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنے میں مشغول ہو جائیں ۔ چیلنج سمجھنے سے معاملات درست ہوتے ہیں اور تعصب سمجھنے سے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ قتل، شہادت ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر جگہ جگہ مسلمانوں کا ٹکراؤ دوسروں کے ساتھ پیش آرہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جو تصادم ہوتا ہے اس میں مسلمان بڑی تعداد میں مارے جاتے ہیں ۔ جب کہیں ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے کہتے ہیں کہ اتنے مسلمان شہید ہو گئے" جب کہ قرآن میں اس طرح کے مواقع کے لیے قتل کا لفظ آیا ہے۔ مثلاً : ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات (البقره (۱۵۴) وغيره - اس معاملہ میں قتل کا لفظ قولِ سدید ہے اور شہید کا لفظ قول غیر سدید ۔ قتل کا لفظ مجرد رپورٹنگ کا لفظ ہے ۔ جب کہ شہید کا لفظ انجام کا لفظ ہے اور انجام کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader