Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وجہ ہے کہ دورِ اول میں اس طرح کے مواقع پر ہمیشہ قتل یا اس کا ہم معنی لفظ استعمال ہوتا تھا۔ اس طرح کے معاملات میں ہماری حیثیت صرف رپورٹر کی ہوتی ہے، حج کی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمارے لیے درست بات یہی ہے کہ ہم بیانِ واقعہ والا لفظ استعمال کریں نہ کہ انخام واقعہ والا لفظ۔ اس لفظی فرق کا اثر اعمال پر کس طرح پڑتا ہے ۔ جب آپ کہیں کہ فلاں جگہ ٹکراؤ ہوا اور اس میں اتنے مسلمان شہید ہو گئے تو آپ نے اس واقعہ کو مقدس اور مطلوب حیثیت دیدی۔ اب لوگوں کا ذہن اس پر اس لحاظ سے نہیں سوچ سکتا کہ بجائے خود یہ ٹکراؤ کرنا صحیح تھا یا غلط ۔ اس کے بعد مسلمانوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ بے فائدہ طور پر مسلسل ٹکراؤ کرتے رہیں گے اور کبھی ایسا نہ کریں گے کہ اس پر نظرثانی کریں اور اپنے رویہ کو بدل کر ہلاکت سے بچ جائیں ۔ اس کے برعکس جب آپ یہ کہیں کہ فلاں جگہ ٹکراؤ ہوا اور اس میں اتنے مسلمان مارے گئے تو آپ اس واقعہ کو ایک ایسا واقعہ قرار دیتے ہیں جو صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ اب آپ کا ذہن اس پر نظرثانی کرے گا ۔ آپ اس کے نفع نقصان کا میزان یہ لگائیں گے ۔ اور جب دیکھیں گے کہ موجودہ حالات میں ٹکراؤ کا کوئی فائدہ نہیں تو آپ فوراً اپنا ذہن تبدیل کر لیں گے اور آئندہ ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے ہلاکت سے بچ جائیں گے ۔ اس طرح کے معاملہ میں "شہادت" کا لفظ بے فائدہ ہلاکت کو جاری رکھنے کا سبب بنتا ہے۔ اور "قتل " کا لفظ بے فائدہ ہلاکت کو ختم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ پریس کا دور قدیم زمانہ میں بھی ایسے افراد پیدا ہوئے جو غیر سدید الفاظ میں کلام کریں ۔ مگر قدیم زمانہ میں ایسے افراد کا اثر بہت محدود رہتا تھا۔ کیوں کہ اس وقت وہ وسیع ذرائع ابلاغ موجود نہ تھے جو آج ہر لکھنے اور بولنے والے کو فوراً حاصل ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں غیر سدید الفاظ بولنے سے وہ خرابی پیدا نہ ہوسکی جس کا مشاہدہ آج ہر طرف کیا جارہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں چھپائی اور پریس اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھی۔ پریس کو مسلمانوں کی ذہن سازی یا قرآن کے الفاظ میں تزکیہ (آل عمران (۱۶۴) کے لیے نہایت موثر طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ مگر عین اس وقت جب کہ پریس کا دور آیا مسلمانوں کا صاحبِ قلم طبقہ عمومی طور پر منفی ذہنیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page