Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

کا شکار ہوگیا ۔ غالب قوموں کے خلاف رد عمل کی نفسیات نے اس کو مکمل طور پر احتجاجی بنادیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم پریس تقریبا سب کاسب قولِ غیر سدید کا نمونہ بن گیا ۔ پریس کے دور میں مسلمانوں نے جو اخبارات ورسائل جاری کیے ان میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کو حقیقی طور پر قولِ سدید کی مثال قرار دیا جاسکے ۔ موجودہ مسلمانوں کا عام طور پر یہ حال ہے کہ وہ مغربی قوموں کے بارے میں صرف سازش اور جارحیت کی اصطلاح میں سوچنا جانتے ہیں ، وہ اس کو استعداد کے فرق کے مسئلے کی حیثیت سے نہیں دیکھ پاتے ۔ اسی طرح وہ ہندو اور اس قسم کی دوسری قوموں کو صرف متعصب اور ظالم کے خانہ میں ڈھلے ہوئے ہیں ۔ وہ اس معاملہ کو اس نظر سے نہیں دیکھ پاتے کہ یہ ایک چیلنج ہے جو خود نظامِ فطرت کے تحت ہمارے لیے پیش آیا ہے ۔ وہ اپنی قوم کے مرنے والوں کو ہر حال میں شہید کا درجہ دیتے ہیں اور دوسری قوم کے مرنے والوں کے لیے ہمیشہ ان کے پاس جہنم رسید کا لفظ ہوتا ہے ۔ یہ منفی مزاج اتنے بڑے پیمانہ پر پھیلنے کا واحد سبب پریس ہے ۔ مسلمانوں کے ارباب قلم نے پریس کو مجرمانہ حد تک ذہن کو بگاڑنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔ اور اسی کا یہ نتیجہ ہے جو آج ہم اپنے چاروں طرف دیکھ رہے ہیں ۔ جزئی تاریخ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما دوسری قوموں کے غلبہ کو اگر ان کی استعداد کی فوقیت کا معاملہ سمجھتے تو وہ مسلمانوں کو اعدادِ قوت (الانفال: ۶۰) کی تلقین کرتے ۔ وہ مسلمانوں سے کہتے کہ تم اپنی کمیوں کو جانو اور اس کی تلافی کرکے اپنے آپ کو عہدِ جدید کے معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کرو۔ مگر موجودہ دور کے مسلم رہنماؤں نے دوسری قوموں کے غلبہ کے معاملہ کو سادہ طور پر صرف جارحیت کا معاملہ سمجھا ۔ اس لیے وہ اٹھ کر مسلمانوں کو لڑائی بھڑائی پر اکسانے لگے ۔ ان رہنماؤں کو نظر آیا کہ لڑائی اور ٹکراؤ جاری رکھنے کے لیے سب سے زیادہ کار آمد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو دورِ اول کے اہلِ اسلام کے فاتحانہ کارنامے سنائے جائیں ۔ ان کو جنگ و قتال کی معرکہ آرائیاں یاد دلائی جائیں ۔ چنانچہ تقریر و تحریر اور نظم و نشر کے تمام طریقے اس مقصد کے لیے وقف کردیئے گئے ۔ پورا مسلم معاشرہ فتوحاتِ اسلامی کے تذکروں سے گونج اٹھا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page