اصلاح اعمال
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی تاریخ کے فاتحانہ واقغات تو مبالغہ آمیز انداز میں لوگوں کے سامنے آگئیے ۔ مگر اسلام کی تاریخ کا دوسرا پہلو جو صبر اور تواضع جیسی صفات سے تعلق رکھتا ہے ، وہ بالکل لوگوں کے سامنے نہ آسکا ۔ لوگوں نے تاریخ اسلامی کے نصف ثانی کو جانا مگر وہ تاریخ اسلامی کے نصف اول سے بے خبر رہے۔ واقعہ حدیبیہ لکھنے اور بولنے کا مذکورہ انداز اتنا بڑھا کہ دور اول کے واقعات میں فاتحانہ شان نہیں تھی ۔ ان کو بھی فتح و غلبہ کا واقعہ بنا کر پیش کیا گیا۔ انھیں میں سے ایک مثال صلح حدیبیہ (۶ھ) کی ہے۔ حدیبیہ کی صلح ایک ایسا واقعہ تھا جو غیر فاتحانہ حالت سے تعلق رکھتا تھا ۔ مگر لفظی بازی گری کے ذریعہ اس کو بھی ایک فاتحانہ واقعہ بنا دیا گیا۔ مثال کے طور پر ایک صاحب نے کہا : " حدیبیہ کا سفر ایک اقدامی انداز کا واقعہ تھا۔ حدیبیہ کا معاہدہ اس بات کی علامت بن گیا کہ آخر کار قریش نے مسلمانوں کی سیاسی اور دستوری حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کو فتح مبین قرار دیا۔ اس واقعہ سے ثابت ہو گیا کہ عرب کی سب سے بڑی طاقت یعنی قریش نے مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔" حدیبیہ کی یہ تصویر تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ صرف شاعرانہ مضمون بندی ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زندگی میں ہر طرح کے واقعات جمع کر دیئے تھے ، شکست کے کبھی اور فتح کے کبھی ، غلبہ کے کبھی اور مغلوبیت کے بھی۔ تاکہ اہل اسلام خواہ جس حال میں ہوں ان کو اپنے پیغمبر سے رہنمائی ملتی رہے۔ مگر مذکورہ قسم کے شاعرانہ قصیدوں نے مسلمانوں کو زندگی کے بہت سے معاملات میں پیغمبر کی رہنمائی سے محروم کر دیا۔ مسلمان شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھنے لگے کہ ان کے لیے اسلام میں حالت غلبہ کی رہنمائی تو موجود ہے مگر حالت مغلوبیت کی رہنمائی اسلام میں موجود نہیں۔ " صلح حدیبیہ " اس بات کی مثال تھی کہ مسلمان جب مغلوبیت کی حالت سے دوچار ہوں تو اس وقت وہ کہاں سے اپنے عمل کا آغاز کریں ۔ مگر حدیبیہ کے واقعہ کو گھٹنے ٹیکنے کا واقعہ بتا کر انھیں اس سے محروم کر دیا گیا کہ موجودہ حالات میں وہ اس سے اپنے عمل کا نقطہ آغاز پاسکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader