Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں صلح حدیبیہ کے لیے فتح مبین (الفتح ) کا لفظ آیا ہے۔ اس لفظ کو لے کر کہہ دیا گیا کہ کون کہتا ہے کہ صلح حدیبیہ کافروں سے دب کر کی گئی۔ قرآن کے بیان کے مطابق وہ فتح مبین تھی ۔ اس میں خود کافروں نے مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے ۔ نہ کہ مسلمانوں نے کافروں کی شرطوں کو مان لیا تھا۔ اس تقریر میں قرآن کے لفظ کو اس کے اصل مفہوم کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن میں اس صلح کے لیے فتح مبین کا لفظ ہے ، مگر اس کو فتح مبین اس کے آخری انجام کے اعتبار سے کہا گیا ہے نہ کہ اس کی ابتدائی تاریخ کے اعتبار سے ۔ جس دن صلح حدیبیہ کا عہد نامہ لکھا گیا اس دن وہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے فریق مخالف کے غلبہ کے ہم معنی تھا ، مگر بعد کو اپنے آخری نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے فتح و غلبہ کے ہم معنی بن گیا۔ یہی آخری نتیجہ ہے جس کو قرآن میں علام الغیوب نے پیشگی بشارت کے طور پر نمایاں فرمایا ۔ حسنین کا کردار پریس کا دور مسلم ملکوں میں انیسویں صدی میں آیا۔ اس زمانہ میں مسلمان غیر معتدل نفسیات کا شکار ہو چکے تھے ۔ چنانچہ ان کا پریس بھی اس سے متاثر ہوا۔ مسلم پریس میں کچھ چیزیں تو خوب چھپیں، لگیں اور کچھ دوسری چیزیں اس میں بالکل نہیں چھپیں۔ ظاہر ہے کہ جو چیز ہر وقت میڈیا میں نمایاں کی جارہی ہو وہ سب کو نظر آئے گی اور جو چیز میڈیا میں نمایاں نہ ہو رہی ہو وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گی۔ چنانچہ عملاً مسلم دنیا میں ایسا ہی ہوا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حسن اور حسین تاریخ اسلامی کے دو متین کردار ہیں۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ امام حسین کے کردار سے تو ہر مسلمان مبالغہ کی حد تک واقف ہے ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ اس کے برعکس امام حسن کا معاملہ یہ ہے کہ جاہل تو درکنار ، موجودہ زمانہ کے عالم بھی ان کے تاریخی کردار سے واقف نہیں ۔ فروری ۱۹۷۸ء کے الرسالہ میں راقم الحروف نے جب حسن اور حسین کے تقابلی کردار پر ایک مضمون شائع کیا ، اس وقت پہلی بار لوگوں کو معلوم ہوا کہ امام حسن کا بھی کوئی قابل ذکر تاریخی کردار ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس نفسیات میں مبتلا تھے ، اس کے لحاظ سے ان کو حسین کا ماڈل اپنے لیے مفید مطلب نظر آیا ، اور حسن کا ماڈل انھیں مفید مطلب دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ امام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page