اصلاح اعمال
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
حسین پر تو دورِ پریس میں بے شمار کتا بیں اور مضامین اور اشعار چھاپے گیے۔ ان کے تذکرہ پر مستقل جلسے اور کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ جب کہ دورِ پریس میں امام حسن کے کردار پر غالباً کوئی ایک بھی قابلِ ذکر کتاب شائع نہیں ہوئی اور نہ ’’ یا د حسن ‘‘ پر کبھی کوئی جلسہ کیا گیا۔ تاریخ کے صفحات میں تو حسن اور حسین دونوں موجود تھے۔ مگر موجودہ مسلم میڈیا میں صرف حسین نمایاں ہوئے۔ حسن اس سے بالکل حذف ہو گیے۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل صرف حسین کے ماڈل سے واقف ہوئی۔ حسن کا ماڈل اس کے زندہ حافظہ میں باقی نہیں رہا۔ یہی معاملہ اسلامی تاریخ کے دوسرے واقعات کا ہے۔ پریس کے دور میں اسلام کی تاریخ کے صرف ان واقعات کو نمایاں کیا گیا جن میں فتح اور کشور کشائی کی شان پائی جارہی تھی۔ حاکمانہ حالت کے تذکروں سے تمام مجلسیں اور کانفرنسیں گونج اٹھیں۔ ان کو نمایاں کرنے کے لیے نظم ونثر کا سیلاب بہا دیا گیا۔ مگر متواضع حالت کے لیے اسلام میں کیا نمونہ ہے، اس پر میرے علم کے مطابق ، کوئی بھی ایسی کتاب شائع نہیں ہوئی جو قابلِ ذکر ہو یا کوئی حقیقی قیمت رکھتی ہو۔ اس بنا پر قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ اسلام کے ایک کردار کو تو لوگوں نے خوب جانا۔ مگر اسلام کے دوسرے کردار سے وہ بالکل بے خبرہے۔ بے خبری اگست ۱۹۸۹ میں مجھے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ ایک مغربی ملک کی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا: اسلام مغرب میں تقریر کے بعد سوال وجواب کے دوران ایک ہندوستانی مسلمان نے سوال کیا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں غیر مسلم اکثریت کا غلبہ ہے اور مسلمان یہاں ایک اقلیتی فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر ایسے ملک میں مسلمانوں کا طریقِ کار کیا ہونا چاہیے۔ مسلمان پروفیسر نے ایک لمحہ سوچا۔ اس کے بعد کہا کہ یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس پر ازسرِ نو ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اسلام میں حالتِ قوت (position of strength) کا ماڈل تو موجود ہے۔ مگر اسلام میں حالت فروتنی (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ یہ بات پیغمبرِ اسلام کی سیرت کے اعتبار سے سراسر خلافِ واقعہ ہے۔ کیوں کہ آپ کی سیرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader