اصلاح اعمال
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بلاشبہ دونوں حالتوں کا نمونہ موجود ہے۔ البتہ موجودہ مسلمانوں کی اپنی ذہنی کیفیت کے اعتبار سے یہ بیان سراسر درست ہے۔ کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ مسلمان اُس اسلام سے واقف نہیں جس میں حالتِ فروتنی کا نمونہ موجود ہے۔ وہ صرف اس اسلام کو جانتے ہیں جس میں فتح وغلبہ کی حالت کا نمونہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی اسی ذہنی کیفیت کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور اب تک مسلمانوں کو اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز نہ مل سکا ۔ موجودہ مسلمان عملاً حالتِ فروتنی میں ہیں۔ مگر انھیں معلوم نہیں کہ حالتِ فروتنی سے کیوں کر وہ اسٹارٹ لیں۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر حالتِ قوت سے اسٹارٹ لینا جانتے ہیں ، مگر موجودہ حالات میں قوت کے مقام سے اسٹارٹ لینا ان کے لیے ممکن نہیں ۔ حالت فروتنی (پوزیشن آف ماڈسٹی) کے مطابق طریق کار اختیار کرنے کا مطلب حالتِ فروتنی پر باقی رہنا نہیں ہے بلکہ حالتِ فروتنی سے ابتدا کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جہاں فی الواقع ہے وہاں سے وہ اپنی جدوجہد حیات کا آغاز کرے ۔ اس دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ جہاں ہے بس وہ وہیں وہ پڑا رہے ۔ ہر ایک عمل کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔ مگر مفید عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز لازمی طور پر ضروری ہے۔ صحیح نقطۂ آغاز سے سفر شروع کرنے والا ایک نہ ایک دن اپنی اگلی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔ اور جو شخص غلط نقطۂ آغاز سے اپنا سفر شروع کرے وہ کبھی بھی کسی حقیقی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ایک ابدی فیصلہ ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ۔ مذکورہ نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کا حال اس ریٹائرڈ فوجی جیسا ہوگیا ہے جو صرف بندوق کی گولی کے ذریعہ مسائل کو حل کرنا جانتا ہو۔ مگر ریٹائر ہونے کے بعد جب اس کی بندوق اس کے پاس نہ رہے تو اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اپنے مسئلہ کو کس طرح حل کرے ۔ پڑوسی کا مسئلہ حسن تدبیر کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے مگر فوجی اس قسم کی تدبیر سے آشنا نہیں۔ وہ بندوق کی گولی کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے سے واقف ہے ۔ مگر اب اس کے لیے اس تدبیر کو استعمال کرنے کا موقع نہیں ۔ اس صورت حال کی ایک تقابلی مثال یہ ہے کہ انگریز ایک تازہ دم قوم کی حیثیت سے ہندوستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader