Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

میں داخل ہوئے اور اٹھارویں صدی کے آخر تک انھوں نے اپنی برتر طاقت کے ذریعہ برصغیر ہند کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا۔ تمام ظاہری حالات کے مطابق ، حیدر آباد کا نظام اور میسور کا ٹیپو دونوں ” پوزیشن آف ماڈسٹی “ کے درجہ میں پہونچا دیئے گئے ۔ اس وقت نظام نے حقیقت پسندی سے کام لیا۔ انھوں نے اپنی واقعی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے انگریزوں سے صلح کرلی۔ ٹیپو نے اس کے برعکس روش اختیار کی۔ انھوں نے اپنی واقعی حیثیت کو ماننے سے انکار کیا۔ نا قابل عبور نابرابری کے باوجود وہ انگریزوں سے لڑگئے ۔ گویا حیدر آباد کے نظام نے پوزیشن آف ماڈسٹی سے اپنے نئے دور کا آغاز کیا۔ اور میسور کے ٹیپو نے ، غیر حکیمانہ طور پر پوزیشن آف اسٹرنتھ سے اپنے لیے آغاز کار کا فیصلہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نظام اور اس کی ریاست باقی رہی۔ اور ٹیپو اور ان کی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ نظام حیدر آباد کے اس فیصلہ سے مسلمانوں کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے ۔ وہ اس حیثیت میں باقی رہے کہ وہ ہزاروں مسجدوں اور مدرسوں اور اسلامی اداروں کو دو سو سال تک مالی تعاون دے سکیں ۔ پورے ملک کا بہترین مسلم ذہن حیدر آباد میں جمع ہو گیا جس نے بڑے بڑے کام کیے۔ نظام نے یونیورسٹی اور کالج اور اسکول قائم کیے جس میں لاکھوں مسلمانوں نے تعلیم حاصل کی ۔ ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد اسی تعلیم کی بدولت حیدر آباد کے مسلمان ملک کے اندر اور ملک کے باہر از سر نو با عزت زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔ اس کے برعکس ٹیپو کے جنگی اقدام نے مسلمانوں کو اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں دیا۔ البتہ سطحی قسم کے شاعروں اور ادیبوں کو کچھ الفاظ مل گئے جن پر مضمون بندی کر کے وہ مسلمانوں کو خیالی شراب پلاتے رہیں ۔ فرق کیا ہے مغربی قومیں جب اسلام پر غالب آئیں تو ہمارے ابتدائی رہنماؤں سے ایک اجتہادی غلطی ہوئی۔ انھوں نے مغربی قوموں کے غلبہ کو سادہ طور پر ایک قوم کے اوپر دوسری قوم کی جارحیت کا مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ یہ ایک قوم کے اوپر دوسری قوم کے تفوق کا مسئلہ تھا۔ مغربی قومیں علوم کے تمام شعبوں میں مسلمانوں سے فائقة ہو گئی تھیں ۔ اسی فوقیت کی بنا پر ان کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلم قوموں کے اوپر غالب آجائیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page