Urdu book · کاروانِ ملّت

اصلاح اعمال

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

جو علم کی دوڑ میں زمانہ سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ مغرب نے ادب کو نئی سائنٹفک زبان دی اور اس کو شاعری کے محدود میدان سے نکال کر نثر کے لامحدود میدان میں پہنچا دیا ۔ وہ ادب کو سخن آفرینی کے دور سے نکال کر حقیقت بیانی کے دور میں لے آئے ۔ مغرب نے طبیعیات اور فلکیات میں نئے نئے حقائق دریافت کیئے ، اس طرح انھوں نے علوم کائنات کو قیاسی نظریات کے دور سے نکال کر مشاہداتی نظریات کے دور میں پہنچا دیا۔ انھوں نے انسان کو ذہنی بندشوں کے دور سے نکال کر آزادانہ تحقیق کے دور میں پہنچایا ۔ مغرب نے اسٹیم دریافت کیا اور اس کے ذریعہ وہ انسانی تاریخ کو دستکاری کے دور سے نکال کر مشینی دور میں لے آئے ۔ انھوں نے جدید قسم کی بندوق اور رائفل بنائی ۔ اس طرح انھوں نے جنگ کو دستی ہتھیاروں کے دور سے نکال کر دور مار ہتھیاروں کے دور میں داخل کر دیا ۔ انھوں نے ریل ، ٹیلی گرام ، دخانی جہاز جیسی چیزیں ایجاد کیں اور مواصلات ( کمیونی کیشن ) کو حیوانی ترسیل کے دور سے نکال کر مشینی ترسیل کے دور میں پہنچا دیا ۔ وغیرہ ۔ اس قسم کی دریافتوں نے مغربی قوموں کو نیا حوصلہ دیا ۔ جب کہ مسلم قومیں اپنے جمود اور تنزل کی بنا پر نئے حوصلہ سے خالی ہو چکی تھیں ۔ معلومات کے اضافہ نے مغربی قوموں کو اس پوزیشن پر پہنچا دیا کہ وہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کر سکیں ۔ نئی نئی قوتوں نے مغرب کو اس قابل بنایا کہ وہ زیادہ مؤثر انداز میں دوسروں کے اوپر اقدام کر سکیں ۔ جب کہ مسلم قومیں نئی چیزوں سے محرومی کی بنا پر نئے اقدامات کو سمجھنے کی حیثیت میں بھی نہ تھیں ۔ ان حالات میں مغرب کے غلبہ کا مسئلہ حقیقتاً عداوت کا مسئلہ نہ تھا بلکہ فوقیت کا مسئلہ تھا۔ اس اعتبار سے ہمارے رہنماؤں کو اپنی ساری توجہ از سر نو تیاری میں لگا دینا چاہیے تھا ۔ مگر انھوں نے اجتہادی غلطی کی بنا پر ساری توجہ ٹکراؤ کے محاذ پر لگا دی جس کو انھوں نے جہاد بتایا ۔ ہمارے رہنماؤں کے لیے وقت آگیا تھا کہ وہ پوزیشن آف ماڈسٹی ( حالت منروتی ) سے اسٹارٹ لیں مگر انھوں نے پوزیشن آف اسٹرنتھ ( حالت طاقت ) سے اسٹارٹ لیا ۔ یہ ہلاکت خیز حد تک غلط اندازہ تھا ۔ چنانچہ اس کا نتیجہ بھی ہلاکت کے سوا کسی اور شکل میں بر آمد نہ ہو سکا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page