باب اول
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
الارض بعد موتها۔ قد بینا لكم الآيات ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر نا فرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔ ( الحدید ۱۶ - ۱۷ ) خدا کی ہدایت ابتدا جب آتی ہے تو جو لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں، ان کا متاثر ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ان کے اندر ایمان ایک زندہ طاقت کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے۔ ان کی پوری زندگی جاہلیت سے نکل کر اسلام پر قائم ہو جاتی ہے۔ اب وہ پہلے والے انسان نہیں ہوتے ، بلکہ بالکل نئے انسان بن جاتے ہیں۔ یہ پہلی اسلامی نسل کی بات ہے۔ اس کے بعد دور اول کے لوگ وفات پاتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے مسلمان آنے لگتے ہیں جو توالد و تناسل کے ذریعہ اسلام کی جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ یہ اسلام کی بعد کی نسلیں ہیں۔ قرآن کے مطابق ، ان لوگوں میں قساوت قلب ( الحدید ۱۶ ) کی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی دور اول کے مسلمانوں کا ایمان اگر تڑپ والا ایمان تھا تو بعد کی مسلم نسلوں کا ایمان بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دور اول کے لوگوں میں اسلام اگر روح (اسپرٹ) اور ہیئت ( فارم ) دونوں کے اعتبار سے موجود تھا تو دور ما بعد کے لوگوں میں روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف ظاہری ہیئت باقی رہ جاتی ہے۔ دور اول کے لوگوں کے لئے دین کا ماخذ اگر قرآن وسنت تھا تو دور ما بعد کے لوگوں کے یہاں قرآن وسنت رہی عقیدہ کے خانہ میں چلا جاتا ہے ، اور دین کے ماخذ کی حیثیت سے انھیں جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ صرف وہ تاریخ ہے جو بعد کے زمانوں میں ایک یا دوسری شکل میں بنی۔ ان اسباب کے نتیجہ میں دونوں گروہوں کے درمیان بنیادی فرق واقع ہو جاتا ہے۔ دور اول کے مسلمان اگر زندہ ملت تھے تو دور ما بعد کے مسلمان مردہ ملت بن جاتے ہیں۔ دور اول کے لوگ ہر ہر بھرے درخت کی مانند تھے تو دور ما بعد کے لوگ سوکھے ہوئے درخت کی مانند ہو جاتے ہیں جس سے کسی کو نہ سایہ ملے اور نہ پھل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader