اصلاح اعمال
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر و اعراض الرسالہ میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ ہندومسلم نزاعات میں صبر و اعراض کی پالیسی اختیار کریں۔ مگر اکثر مسلمان اس نصیحت کو سن کر برہم ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کو بزدلی اور پسمانی کا سبق دیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس جو مسلم رہنما مسلمانوں کے سامنے جہاد اور ٹکراؤ کی بات کرتے ہیں، ان کی باتیں مسلمانوں کو خوب پسند آتی ہیں ۔ وہ ان مسلم رہنماؤں کے گرد جوق در جوق اکٹھا ہو جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اس مختلف رد عمل کا سبب ان کی مذکورہ نفسیات ہے۔ وہ اپنے موجودہ مزاج کی بنا پر اپنے لیے صرف حالت غلبہ سے واقف ہیں ۔ وہ اپنے حق میں حالت فروتنی سے واقف نہیں ۔ اس مزاج کی بنا پر ہجوم اور اقدام کی بات انھیں اپنی حیثیت کے برابر دکھائی دیتی ہے اور صبر و اعراض کی بات انھیں اپنی حیثیت سے کم تر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی جوش و خروش والی باتوں میں ان کے لیے اپیل ہے، مگر الرسالہ کی سنجیدہ باتوں میں ان کے لیے اپیل نہیں ۔ وہ جوش میں جہاد کے تحت بار بار اقدام کرتے ہیں جو ایک طرفہ ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔ صبر و تحمل والے طریقہ میں ان کی کامیابی یقینی ہے مگر صبر و تحمل والا طریقہ اختیار کرنے پر وہ راضی نہیں ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور دوسرے پیغمبروں کے احوال اس معاملہ میں نہایت واضح طور پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔ جو شخص بھی کھلے ذہن کے تحت ان کا مطالعہ کرے گا وہ اس معاملہ میں کسی دوسری رائے پر نہیں پہنچ سکتا۔ بنی اسرائیل کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ چودھویں اور تیرہویں صدی قبل مسیح ہے ۔ وہ مصر میں یہودیوں کے درمیان پیدا ہوئے ۔ یہ یہودی اس وقت کے گویا مسلمان تھے۔ ان کی تعداد مصر میں غالباً ایک ملین سے زیادہ تھی ۔ اس زمانہ میں مصر کا مشرک بادشاہ فرعون یہودیوں کے اوپر بہت ظلم کرتا تھا۔ قرآن کے مطابق ، یہود نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی کہ فرعون ہمارے اور پر ظلم و زیادتی کر رہا ہے ۔ ہم اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے کیا کریں ۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو (الاعراف ۱۲۸) دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اللہ تعالی نے یہود کو یہ ہدایت دی کہ تم لوگ مصر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader