اصلاح اعمال
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کچھ گھر مقرر کر لو اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بنا لو اور نماز قائم کرو (یونس ۸۷) یہود نے اپنی بستیوں میں عبادت خانے بنا رکھے تھے جہاں وہ عبادت کرتے تھے۔ لیکن فرعون نے یا تو ان عبادت خانوں کو ڈھادیا یا ان میں جاکر عبادت کرنے سے روک دیا۔ اس وقت یہود سے کہا گیا کہ تم اپنے گھروں میں خاموشی سے نماز پڑھ لیا کرو تاکہ تم امن میں رہو (المراد صلواتی بیوتکم سرا لتا منوا۔ و ذلك حين اخافهم فرعون فامروا بالصبر واتخاذ المساجد في البيوت والاقتدام على الصلاة والدعاء الى ان ينجز الله وعده) الجامع لاحكام القرآن ۸/ ۷۲- ۱۷۳ اس واقعہ پر غور کیجیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی نگاہ صرف ظالم کے ظلم پرپڑتی تھی۔ اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نگاہ ظالم کے ظلم کے باوجود امکانی مواقع پرپڑتی۔ یہود سمجھتے تھے کہ ان کا مسئلہ اس وقت ختم ہوگا جب کہ فرعون ختم ہو۔ اس کے برعکس حضرت موسیٰ نے وحی الہیٰ کی روشنی میں یہ دیکھا کہ فرعون کی موجودگی میں بھی ایک دائرہ کار ہے جہاں ہم کو اپنے دین کی اقامت کا موقع حاصل ہے۔ اس کے مطابق حضرت موسیٰ نے یہود کونصیحت کی کہ تم فرعون کی روش پر صبر کرتے ہوئے اپنے گھروں کو عبادت خانہ بنالو۔ فرعون کی طرف سے نظریں ہٹا کر اللہ کی طرف اپنی ساری توجہ لگادو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسائل پر محنت کرنے کے بجائے مواقع پر محنت کرو۔ غیر حاصل شدہ میدان کار کے لیے فریاد نہ کرو، بلکہ حاصل شدہ میدان کار کو استعمال کرنے میں لگ جاؤ۔ مکی دور، مدنی دور پیغمبر اسلام صلعم علیہ وسلم کی مثال سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک ابتدائی دور ہے جس کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کا دوسرا دور وہ ہے جس کو مدنی دور کہا جاتا ہے۔ مکی دور میں یہ صورت حال تھی کہ ایک طرف دار الندوہ پر قریش کا مکمل قبضہ تھا۔ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ حج کی عبادت کو انھوں نے غلط طور پر شمسی کیلنڈر کے مطابق جاری کردیاتھا۔ سود اور شراب جیسی حرام چیزیں سماج میں عام طور پر رائج تھیں، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں سراسر اسلام کے خلاف تھیں۔ مگر ابتدائی تقریبا ۱۳ سال تک رسول اللہ صلعم اللہ علیہ وسلم نے ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader