اصلاح اعمال
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزوں میں کوئی دخل نہیں دیا۔ اس قسم کی نام ناخوش گوار چیزوں میں کامل صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف عقیدہ کی پر امن دعوت تک محدود رکھا۔ ابتدائی کئی سال تک آپ اور دوسرے اہل ایمان چپ کر نماز پڑھتے تھے۔ وہ بیت اللہ کے بجائے اپنے گھروں میں نماز ادا کرتے تھے۔ مکہ کی مذکورہ برائیوں میں مداخلت کرنا براہِ راست قریش کی قیادت اور ان کے مفادات سے ٹکرانے کے ہم معنی تھا۔ اس کے حالات مکی دور میں موجود نہ تھے۔ البتہ عقیدہ کی پر امن تبلیغ اور خاموش عبادت کے میدان میں آپ کے لیے کام کا موقع موجود تھا۔ چنانچہ آپ نے قریش سے عملی ٹکراؤ والے میدان کو چھوڑ کر اسی ممکن دائرہ کار میں اپنے آپ کو اور دوسرے اہل ایمان کو مصروف کر دیا۔ مدنی دور میں صورتِ حال بدل گئی۔ اب قریش نے جارحیت کر کے براہ راست جنگ و قتال کا محاذ کھول دیا۔ یہ ایک مشکل مسئلہ تھا۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے دعوتی کام کے مواقع شدت سے مجروح ہو گئے ۔ اس وقت چند ناگزیر ٹکراؤ کے بعد آپ نے وہ تدبیر اختیار فرمائی جس کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ صلح حدیبیہ یا حدیبیہ پرنسپل کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کی ضد (حمیت جاہلیہ) سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے ہوئے اپنے لیے مواقع کار حاصل کرنا۔ مکی دور میں جو فرصت عمل خاموش تقسیم کے ذریعہ حاصل ہوئی تھی، اس تقسیم کو دوبارہ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ فریق ثانی کی باقاعدہ رضامندی کے ذریعہ ممکن بنایا گیا ۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ فریق ثانی کچھ چیزوں کو اپنے لیے قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ کچھ چیزوں کے لیے وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس کے سیاسی مفاد کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں ۔ حدیبیہ پرنسپل یہ ہے کہ ایسی چیزوں سے اپنی توجہ کو اس حد تک ہٹا لیا جائے کہ فریق ثانی یہ سمجھنے لگے کہ اس کے سیاسی مفادات محفوظ ہیں اور اس کے قومی وقار کو ٹھیس نہیں پہنچ رہی ہے۔ فریق ثانی کو یہ اطمینان دلا کر اپنے لیے دعوتی مواقع حاصل کرنے کا دوسرا نام حدیبیہ پرنسپل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اصول کو اختیار کر کے مدنی دور میں دوبارہ اپنے لیے دعوت کے مواقع حاصل کیے۔ حدیبیہ پرنسپل ، حدیبیہ جیسے حالات میں از سرِ نو آغاز کار کو پانے کی تدبیر ہے ۔ یہ تدبیر اتنی کارگر ہے کہ اس کو اگر صحیح طور پر اختیار کیا جائے تو وہ فتح مبین کے سوا کہیں اور پہونچانے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader