اصلاح اعمال
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے مشرق وسطیٰ کے ایک عربی جریدہ میں ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ اس مضمون کا عنوان تھا: الجہاد ھو الحل الوحید (جہاد ہی واحد حل ہے) مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مسلم دنیا اس وقت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے اس کا حل صرف یہ ہے کہ امت سر بکف ہو کر جہاد اور مقابلہ کے لیے کھڑی ہو جائے۔ میں نے اس مضمون کو پڑھا تو میں نے کہا کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کے اعتبار سے یہ صحیح نہیں ہے کہ ان کو الجہاد ھو الحل الوحید کا نعرہ دیا جائے۔ اس وقت صحیح بات یہ ہے کہ امت کو آلہ ادھر ہو الحل الوحید (تیاری ہی واحد حل ہے) کا پیغام دیا جائے۔ جہاد بلا شبہ اسلام کا ایک رکن ہے۔ مگر جہاد تیاری کے بعد ہوتا ہے نہ کہ تیاری سے پہلے ۔ مذکورہ عربی مضمون اس سلسلہ میں کوئی منفرد مثال نہیں ۔ آج کل مختلف الفاظ میں عام طور پر یہی بات کہی جاتی ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا امت کو جہاد وقتال کے میدان میں کھڑا ہونے کے لیے ابھار رہا ہے ۔ اس قسم کی باتیں بظاہر اس مفروضہ پر کہی جاتی ہیں کہ امت نے ابھی جہاد کے میدان میں قدم نہیں رکھا ہے ۔ اور ضرورت ہے کہ اس کو جہاد کے میدان میں اتارا جائے ۔ مگر یہ بات درست نہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ پچھلے تقریبا تین سو سال سے ملتِ اسلام کا بیشتر حصہ جہاد ہی میں مبتلا ہے ۔ جو بات ہے وہ یہ کہ جہاد کا نتیجہ بر آمد نہیں ہو رہا ہے ، نہ کہ جہاد نہیں ہو رہا ہے۔ موڈنین جہاد نے فقدانِ نتیجہ جہاد کو فقدان جہاد کے ہم معنی سمجھ لیا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ جہاد تو بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ لاکھوں لوگوں کی شہادت کی خبریں اخباروں میں چھپ رہی ہیں۔ مگرصدیوں کے جہاد کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو رہا ہے ۔ اس لیے اب اصل مسئلہ جہاد کو روک کر دوسری تدبیر اختیار کرنے کا ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں جہاد کو روک کر دوسری تدبیر اختیار فرمائی۔ جہاد کا یہ ذہن ہندوستان میں بھی پوری طرح پایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے ایک بڑے شہر میں دسمبر ۱۹۹۱ میں ایک "عظیم الشان مسلم کانفرنس" ہوئی ۔ اس کانفرنس کا عنوان تھا: اقدام امت کانفرنس ۔ اس کانفرنس کے کچھ ذمہ دار حضرات مجھ سے ملے ۔ میں نے کہا کہ آپ کو اگر کانفرنس کرنا ہے تو ” تیاری امت کانفرنس کیجئے ۔ اقدام امت کانفرنس کا اس وقت کوئی موقع نہیں۔ کیوں کہ امت اس وقت ہر اعتبار سے تیاری کے مرحلہ میں ہے۔ اور جو گروہ تیاری کے مرحلہ میں ہو اس کا اقدام کا اقدام کرنا سراسر بے معنی ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسان بیج ڈالنے کے موسم میں فصل کاٹنے کی تقریب منانے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader