باب اول
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی مسلم نسل جب زوال کی اس حالت کو پہنچ جائے تو اس وقت اس کے احیاء نو کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ اس کا جواب مذکورہ آیت (الحدید ،۱) میں دیا گیا ہے۔ ایسی نسل کی مثال مردہ زمین کی ہے ، اور اس کو دوبارہ زندگی دینے کے لئے وہی عمل کرنا چاہئے جو مردہ زمین کے ساتھ کوئی کسان کرتا ہے۔ کسان کو جب ایک مردہ زمین ملتی ہے تو وہ ایسا نہیں کرتا کہ پہلے ہی مرحلہ میں اس کے اندر بیج بکھیر دے۔ وہ یہ کرتا ہے کہ پہلے زمین کو تیار کرتا ہے۔ اس کا اینٹ پتھر نکالتا ہے۔ اس کے جھاڑ جھنکار کو کاٹتا ہے۔ اس کو ہموار کرتا ہے۔ اس کو جوتتا ہے اور اس میں پانی دیتا ہے۔ اس ابتدائی عمل کے بعد جب زمین تیار ہو کر قابل کاشت ہو جاتی ہے ، اس وقت وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اس کے بعد بہت جلد دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی زمین میں لہلہاتی ہوئی فصل کھڑی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ یہ کرتا کہ زمین کو تیار کئے بغیر اس میں بیج پھینک دیتا تو اس کے حصہ میں آخر کار کچھ بھی نہ آتا۔ مسلم رہنما اگر قرآن کی اس آیت سے موجودہ مسلم نسلوں کا حکم اخذ کرتے تو وہ کسان کی طرح ایک ایک مسلمان کی تعلیم و تربیت میں لگ جاتے۔ وہ ان کے رسمی عقیدہ کو زندہ عقیدہ بناتے۔ وہ ان کے اندر اسلام کی اسپرٹ ابھارتے۔ وہ ان کے ایمان کو ذہنی انقلاب کے درجہ تک پہنچانے کی کوشش کرتے۔ وہ خدا کے ساتھ ان کے تعلق کو اس طرح استوار کرتے کہ خدا ان کے لئے ایک حاضر و ناظر حقیقت بن جائے۔ یہ بلاشبہ ایک خشک عمل ہے۔ اس کو گم نامی کی سطح پر انجام دینا پڑتا ہے۔ اس عمل کے دور ان ایک مقبول آدمی بھی اپنی قوم کے اندر نا مقبول بن جاتا ہے۔ لیکن اگر ہمارے رہنما ان تمام ناموافق باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اس ابتدائی کام کو انجام دیتے اور اس کو تکمیل کے مرحلہ تک پہنچاتے تو یقیناً آج ہمارے سامنے مسلم ملت ایک سرسبز و شاداب باغ کی صورت میں موجود ہوتی۔ مگر جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے تمام پر شور ہنگاموں کے باوجود ملت ہر طرف ایک ویران باغ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اب ماضی کی اس غلطی کی کم سے کم تلافی یہ ہے کہ حال میں اس کو نہ دہرایا جائے۔ اب تمام مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader