Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

اب اس کے برعکس ایک مثال لیجئے ۔ نئی دہلی کے ایک قیمتی علاقے میں ایک قدیم شکستہ مسجد تھی۔ جس کے ساتھ وسیع زمین شامل تھی ۔ اس زمین کا رقبہ مجموعی طور پر اٹھارہ ایکڑ ہوتا تھا ۔ ۱۹۷۴ء کے بعد اس زمین پر دہلی کی حکومت کے تین محکموں آرکیالوجی ، ڈی ڈی اے اور کارپوریشن نے قبضہ کر لیا ۔ وہاں انھوں نے اپنا دفتر قائم کر دیا ۔ ان کا مقصد اس کو جدید قسم کے چنک اسپاٹ میں تبدیل کرنا تھا ۔ اس نقشہ کے مطابق کام بھی شروع ہو گیا ۔ حتی کہ انھوں نے وہاں کئی لاکھ روپیہ خرچ کر دیا۔ اس کے بعد ایک مولوی صاحب کو یہ خیال آیا کہ اس قدیم مسجد پر قبضہ کیا جائے ۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے نہ مسلمانوں کا جلسہ کیا ، نہ اخباروں میں بیانات چھپوائے ، نہ پوسٹر بازی کی مہم چلائی ، نہ سڑکوں پر "ہماری مسجد ہم کو واپس کرو" کے نعرے لگائے ۔ اس قسم کے کسی بھی مظاہراتی کام کو چھوڑ کر انھوں نے یہ کیا کہ نہایت خاموشی سے اس علاقہ کے ہندو خواص سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ ان سے نجی ملاقاتوں میں کہا کہ یہ ایک مسجد (عبادت خانہ) ہے اور عبادت خانہ ہر حال میں مقدس ہوتا ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو ۔ اس لئے آپ لوگ اس کو واگزار کرانے میں ہماری مدد کریں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو جو سکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوا تھا وہ ان کا ساتھ دینے کے لئے پوری طرح تیار ہو گیا ۔ اس نے مذکورہ تینوں محکموں سے باقاعدہ رابطہ قائم کیا ۔ ہر قسم کے دستاویزات جمع کئے ۔ اس سلسلہ کے تمام خطوط اور ڈرافٹ جو انگریزی میں ہوتے تھے وہ خود تیار کرتا اور مولوی صاحب کے ساتھ متعلقہ دفاتر میں جاتا ۔ یہ خاموش دفتری جنگ تین سال تک جاری رہی ۔ یہاں تک کہ مذکورہ ہندو سکریٹری اور کچھ دوسرے اعلیٰ طبقہ کے ہندوؤں کی مدد سے مذکورہ تینوں محکمے اس پر راضی ہو گئے کہ وہ مسجد کو واگزار کر دیں ۔ مولوی صاحب کو باقاعدہ تحریری طور پر یہ اجازت مل گئی کہ وہ مسجد کو آباد کر سکتے ہیں اور ملحقہ ۱۸ ایکڑ زمین پر 8 فٹ اونچی باؤنڈری تعمیر کر سکتے ہیں ۔ آج یہاں نہ صرف مسجد اور مدرسہ قائم ہے بلکہ تمام تمدنی سہولتیں مثلاً بجلی ، ٹیلیفون اور سیور لائن بھی وہاں آ چکی ہیں ۔ اب یہ جگہ ایک پر رونق اسلامی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اجودھیا کی مسجد کو مسلمانوں نے مزید نقصان کے ساتھ کھو دیا ۔ اور دہلی کی نسبت زیادہ بڑی اور زیادہ اہم مسجد کو انھوں نے شاندار طور پر دوبارہ حاصل کر لیا ۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page