Urdu book · کاروانِ ملّت

مسائل ملت

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نادان رہنماؤں نے اجودھیا کی مسجد کو جاہل عوام کی سطح پر حل کرنا چاہا۔ اس کے برعکس دہلی کی مسجد کے مسئلہ کو تعلیم یافتہ خواص کی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک مقام پر مسلمان مفتوح اور مغلوب ہوگئے اور دوسرے مقام پر انہوں نے شاندار فتح حاصل کی۔ یہ اصول صرف مسجد کے لئے خاص نہیں۔ مسلمان جس معاملہ میں بھی عوامی ہنگامہ کھڑا کریں گے وہاں ان کا ٹکرار عوامی ہندوؤں سے ہو جائے گا، اور آخر کار ان کو شکست ہوگی۔ اس کے برعکس جب وہ خاموش انداز اختیار کریں گے اور ہندوؤں کے خواص طبقہ سے ربط قائم کریں گے تو معاملہ ہندو خواص کی سطح پر رہے گا۔ ایسی صورت میں وہ ہمیشہ اپنے موافق فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، بشرطیکہ ان کا معاملہ انصاف اور صداقت پر مبنی ہو۔ ہم پیئیں ، وہ نہ پیئیں اس سلسلہ میں ایک صحابی کا قول نہایت با معنی اور سبق آموز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ بدر پیش آیا تو یہ سوال تھا کہ میدان جنگ کے لئے کس مقام کا انتخاب کیا جائے۔ ایک صحابی الحباب بن المنذر الجموح نے ایک مقام کی تجویز پیش کی۔ اس کی خصوصیت انہوں نے یہ بتائی کہ جب وہاں ہم ٹھہریں گے تو پانی کے چشمے ہمارے قبضہ میں آ جائیں گے۔ اور فریق ثانی پانی کے ذخائر سے محروم ہو جائے گا۔ اس تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھر ہم پیئیں گے اور وہ نہ پیئیں گے (فنشرپ ولا يشربون)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرماتے ہوئے فوراً اس کو قبول کر لیا (سیرۃ ابن ہشام ۲/۲۶۱ ) اسی قسم کا معاملہ ہندوستان کا بھی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو عوام کی سطح پر لے جائیں تو ایسی صورت میں ہندوؤں کا فرقہ پرست طبقہ پانی پئے گا، اور مسلمان پانی سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو خواص کی سطح پر رکھ کر طے کریں تو ایسی صورت میں پانی سلمان کے حصہ میں آئے گا ، اور ہندو فرقہ پرست پانی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ دور اول کی مثال عوام اور خواص کے اس فرق کی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بھی موجود ہے۔ رسول اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page