غلط رہنمائی
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ایسی لڑائیاں چھیڑ دیں جس کا نتیجہ اس کے سوا کسی اور شکل میں برآمد نہیں ہو سکتا تھا کہ جو کچھ ان کے پاس باقی بچا ہے اس کو بھی وہ آخر کار کھو دیں۔ نشانہ عمل دور اول کے مسلمانوں نے اپنی طاقت کو مثبت کاموں میں استعمال کیا اور اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال، اس کے برعکس ، یہ ہے کہ وہ آپس میں لڑ کر اپنی قوتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کی پستی کا حال یہ ہے کہ مصر کے اسلام پسندوں نے فوجی افسروں کے ساتھ مل کر شاہ فاروق کا خاتمہ (۱۹۵۲) کیا ، اور جب شاہ فاروق کو مصر سے جلا وطن کر چکے تو اس کے بعد دونوں خود آپس میں لڑنے لگے۔ اسی طرح برصغیر ہند کے مسلمانوں نے ہندوؤں سے لڑ کر پاکستان (۱۹۴۷) بنوایا۔ اور جب پاکستان بن چکا تو انھوں نے خود اپنے درمیان لڑائی شروع کر دی۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو اٹھانے کے لئے سنت رسول پر عمل نہیں کیا ، حتی کہ وہ لوگ بھی ایسا نہ کر سکے جو بظاہر " نظام مصطفیٰ “ اور " الرسول قائدنا “ جیسے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو ایسے تعمیری نشانے دئے جن میں وہ پوری طرح مشغول ہو جائیں اور باہمی ٹکر اور سے بچتے ہوئے اپنی قوتوں کو مفید کاموں میں استعمال کریں۔ یہ تعمیری نشانے خاص طور پر دو تھے ــــــــــ دعوت الی اللہ ، اور علوم اسلامی کی تدوین۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اصحاب میں ، اور آپ کے اصحاب نے تمام تابعین میں یہ تڑپ پیدا کر دی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ وہ اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک تمام انسانوں کو اللہ کی مرضی سے پوری طرح باخبر نہ کر دیں۔ اس داعیانہ مشن نے مسلمانوں کے جذ بہ عمل کو باہمی ٹکراؤ سے ہٹا کر خارجی پیغام رسانی کی طرف موڑ دیا۔ دوسرے مقصد کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تدبیر اختیار فرمائی کہ ابتدا آپ نے اعلان فرمایا کہ : لا تكتبو اعنی غیر القرآن ( مجھ سے قرآن کے سوا کچھ اور نہ لکھو ) اس طرح آپ کی حیات میں لوگ قرآن کو پڑھنے پڑھانے اور اس کو جمع کرنے میں لگے رہے۔ آخر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader