Urdu book · کاروانِ ملّت

غلط رہنمائی

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

عمر میں آپ نے لوگوں کو اپنی احادیث لکھنے کی اجازت دے دی۔ یہ ایک بے حد اہم قسم کی حکیمانہ تدبیر تھی۔ اس طرح آپ نے اپنے بعد امت کے اذہان کو حدیث کی جمع و تدوین میں لگا دیا۔ آپ کی وفات کے بعد کئی سو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اسباب سے جو تاریخی عظمت حاصل کی تھی، اس کی بنا پر آپ کی احادیث کو جمع کرنا ایک ایسا با عظمت کام بن گیا کہ اس زمانہ میں بڑے بڑے محدثین کو خلفاء و سلاطین سے بھی زیادہ اونچا درجہ معاشرہ میں حاصل ہو گیا۔ لوگ نہایت شوق اور محنت کے ساتھ اس کام میں لگ گئے ۔ قرآن کی طرح اگر حدیث بھی آپ کی زندگی میں ایک کتاب کی صورت میں مدون ہو جاتی تو لوگوں کے لئے وہ اس سرگرمی کا سبب نہ بنتی جو عملاً پیش آیا۔ ابتداً یہ کام صرف جمع حدیث یا تدوین حدیث کا کام تھا۔ پھر اس سے اور بہت سے علوم پیدا ہوئے ۔ اور لُّعلوم حدیث ، اس کے بعد علوم لغت، علوم تفسیر، علوم فقہ، علوم تاریخ، وغیرہ ۔ اور جب مسلم معاشرہ میں علمی سرگرمیاں جاری ہوئیں تو وہ بالاخر علوم منقولات سے گزر کر علوم معقولات تک پہنچ گئیں ۔ پوری مسلم دنیا علمی سرگرمیوں سے گونج اٹھی۔ تدوین حدیث کی مہم اپنے آخر میں پہنچ کر علوم اسلامی کی تدوین کی مہم بن گئی۔ اس طرح امت تقریباً ایک ہزار سال تک اس میں مشغول رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سراسر تعمیری نشانہ دیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اس کے برعکس مسلمانوں کو تخریبی نشانہ دے دیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کی تعبیر سیاسی انداز میں کی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما مسلمانوں کے سیاسی زوال کے حالات سے متاثر ہو کر اٹھے۔ اس لئے ہر ایک نے، کسی ایک یاد دوسری صورت میں یہی کیا کہ اسلام کو ایک سیاسی نظریہ کے روپ میں پیش کیا۔ اس تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک کا نشانہ سیاست بن گیا۔ ہر ایک کا ذہن یہ بن گیا کہ ہمیں سیاسی نظام میں تبدیلی لا کر دوبارہ اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب سے اہم کام یہ قرار پایا کہ حکمراں افراد سے ٹکراؤ کیا جائے تاکہ ان کو ہٹا کر دوسرا نظام حکومت قائم کیا جا سکے۔ جن ملکوں میں حکومت غیر مسلموں کے ہاتھ میں تھی، وہاں وہ حکومت کے خلاف اس لئے ٹکرا گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page