Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیر نو کا مسئلہ تمہید اسلام اور اہل اسلام کی تاریخ چودہ سو سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ ابتدائی تقریباً ایک ہزار سال ایسے ہیں جب کہ اہل اسلام کو غلبہ ملا ہوا تھا۔ ان کی تہذیب غالب تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد مسلم قوموں پر زوال آیا۔ وہ دوسری قوموں سے شکست کھاتے۔ شکست اور مغلوبیت کی یہ صورت تا حال باقی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ ملکوں میں وہ مقامی اکثریت کے ہاتھوں مغلوب ہیں اور دوسرے ملکوں میں بیرونی قوموں نے انھیں مغلوب کر رکھا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا ہے کہ جو مصیبت بھی تمہارے سے اوپر آتی ہے وہ خود تمہارے اپنے کئے کا نتیجہ ہوتی ہے (التوبہ ۳۰) اس قانون الہی کی روشنی میں یہ ماننا ہوگا کہ مغلوبیت کی موجودہ صورت حال کا سبب باہر نہیں ہے بلکہ اندر ہے۔ یہ خود اہل اسلام کی داخلی کمیاں ہیں جنھوں نے ان کو موجودہ حالت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسلام کے دور اول میں غزوہ احد (۳ ھ) میں اہل اسلام کو شکست ہوئی۔ یہ جنگ اگر چہ واضح طور پر مخالفین کے ظلم اور جارحیت کا نتیجہ تھی۔ مگر قرآن میں اس کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے اوپر ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا سبب تمہارا باہمی نزاع (آل عمران ۱۵۲) تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر تم چاہتے ہو کہ دوبارہ تمہارے ساتھ احد جیسا المیہ نہ پیش آئے تو اپنے اندر نزاع کی حالت کو ختم کر دو۔ تم ایک بے نزاع گروہ بن جاؤ۔ اسی طرح غزوہ حنین (۸ھ) میں ابتدا زاہل اسلام کو شکست ہوئی اور انھیں نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ جنگ بھی تمام تر مخالفین اسلام کی سازش اور جارحیت کی بنا پر پیش آئی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیا گیا تو ابتدائی شکست اور نقصان کی ساری ذمہ داری مسلمانوں کی داخلی کمی پر ڈال دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ حادثہ اس لئے پیش آیا کہ تم کو اپنی کثرت پر ناز (التوبہ ۲۵) ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ حنین جیسا واقعہ ساتھ نہ دہرایا جائے تو تم اپنے آپ کو فخر و ناز کی نفسیات سے بچاؤ۔ اپنے اندر تواضع کا مزاج پیدا کرو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page