Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا معاملہ پیش آنے کی صورت میں صحیح اسلامی رد عمل یہ ہے کہ اپنے اندر پائے جانے والے سبب کو دور کیا جائے نہ کہ بیرونی ظالم کے خلاف احتجاج کا طوفان کھڑا کیا جائے۔ مسئلہ کا حل ہمارے اندر ہے نہ کہ ہمارے باہر۔ قرآن فطرت انسانی کا شرعی بیان ہے۔ قرآن میں جو بات شریعت کی زبان میں کہی گئی ہے وہ ہر آدمی کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ ہر آدمی خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، جب کسی شکست سے دوچار ہوتا ہے تو اس کی فطرت اس کو یہی بات سمجھاتی ہے کہ تمہاری کیوں کی بنا پر ایسا ہوا۔ اس لیے اپنی کیوں کو دور کر کے ایسے انجام سے بچو۔ اس کے خلاف صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی کے آس پاس کچھ بہکانے والے لوگ موجود ہوں اور وہ اس کو بہکا کر اس کے ذہن کو غلط رخ پر موڑ دیں۔ اس کی ایک انفرادی مثال رابرٹ امیریان (Robert Immiyan) ہے۔ وہ لمبی کود کا عالمی چیمپین ہے۔ ایک بار وہ مقابلہ میں ہار گیا۔ اس کے بعد اس سے پوچھا گیا کہ اب تمہارا پروگرام کیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۵ اپریل ۱۹۸۸) کے مطابق ، اس نے جواب دیا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں اپنے ان نقائص سے چھٹکارا حاصل کروں جو میرے لئے اچھی کارکردگی میں رکاوٹ ہیں : The most important is to get rid of the defects which prevent me from improving my performance. یہ دراصل فطرت کا سبق تھا جو مذکورہ کھلاڑی کی زبان پر جاری ہوا۔ جب بھی کوئی شخص زندگی کی دوڑ میں گر پڑتا ہے تو اس کی فطرت خاموش زبان میں اس سے کہتی ہے کہ تم اپنی کیوں کو دور کرو ، اس کے بعد تم اپنے آپ کو دوبارہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ فطرت کے اسی سبق کو رہنما بنا کر ہزاروں افراد نے ایک بار ناکام ہونے کے بعد دوسری بار کامیابی کی منزل کو پا لیا ہے۔ فرد کے احیا نو کا جو اصول ہے وہی قوم کے احیا نو کا بھی اصول ہے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم سے شکست کھا جاتی ہے۔ اس وقت فطرت کا خودکار نظام اپنے آپ جاگ پڑتا ہے۔ وہ قوم کو سکھاتا ہے کہ تمہاری شکست کا سبب خود تمہاری اندرونی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے میں لگ جاؤ ۔ جب تمہاری داخلی کمزوری دور ہوگی تو اس کے بعد تمہاری شکست بھی فتح میں تبدیل ہو چکی ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page