فرقہ وارانہ مسئلہ
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
کو مجروح کرنے والے تھے۔ مسلمانوں نے جلوس والوں کو ایسے نعرے لگانے سے روکا۔ مگر وہ نہیں رکے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بھی جوابی طور پر نعرے بلند کیے۔ اس کے بعد ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر پتھر پھینکے گئے۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے بھی ان پر پتھر پھینکے۔ اس کے بعد فساد بھڑک اٹھا۔ مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے ۔ ان کی بہت سی دکانیں اور مکانات جلا دیے گئے۔(صفحہ ۳) نیز دعوت ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۹ اسی طرح بدایوں (یونی) میں ۲۸ ستمبر ۸۹ کو فرقہ وارانہ فساد ہوا جس میں مسلمانوں کا زبر دست جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ اتر پردیش کی کانگریسی حکومت نے اردو کو ریاست کی سیکنڈ لینگوئج قرار دینے کا بل پاس کیا۔ اس پر بدایوں کے شری کرشن انٹڑ کالج کے ہندو طلبہ نے اردو کی مخالفت میں ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں مشتعل کر نے والے نعرے لگائے گئے۔ یہ جلوس کلکٹریٹ تک جاکر ختم ہو گیا اور اس دن کوئی فساد پیش نہیں آیا۔ اگلے دن (۲۸ ستمبر) کو بدایوں کے اسلامیہ انٹر کالج کے مسلم طلبہ نے تقریباً تین سو کی تعداد میں جمع ہو کر جوابی جلوس نکالا۔ یہ جلوس نعرہ لگاتا ہوا شری کرشن انٹر کالج کے سامنے سے گزرا۔ وہاں مسلم طلبہ پر پتھراؤ ہوا۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے بھی ویساہی کیا۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا (قومی آواز ۹ اکتوبر ۱۹۸۹ یہی اکثر فسادات کی کہانی ہے۔ مسلم ترجمانوں کے خود اپنے بیان کے مطابق ، ہندوؤں کی طرف سے جلوس ، لاؤڈ اسپیکر، ہولی کے رنگ ، نعرہ بازی یا اور کسی صورت میں اشتعال انگیزی کا واقعہ پیش آتا ہے۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو کر ان سے ٹکرا جاتے ہیں ۔ اب لڑائی بڑھتی ہے اور باقاعدہ فساد کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو " نزلہ بر عضو ضعیف" کے اصول پر ہمیشہ مسلمانوں کے جانی و مالی نقصان پر ختم ہوتی ہے۔ منفی رد عمل مسلمانوں کا یہ طریقہ منفی رد عمل کا طریقہ ہے۔ اور ایسا طریقہ یقینی طور پر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ ایسے مواقع پر قرآن نے اعراض کا حکم دیا ہے نہ کہ جوابی طور پر الجھنے کا۔ یہ صحیح ہے کہ مذکورہ قسم کی جوابی کار روائی میں مسلمانوں کا ایک محدود طبقہ ہی ملوث ہوتا ہے۔ مگر دوسرے مسلمان ، خاص طور پر مسلمان کار رہنما اور دانشور طبقہ، بھی پوری طرح اس میں شریک ہے ، کیونکہ وہ ان کی مذمت نہیں کرتا ، بلکہ ان کی جوابی کار روائی کو جائز قرار دے کر ان کا لفظی دفاع کرتا ہے۔ کچھ مسلمان اگر اس منفی رد عمل میں براہ راست طور پر شریک ہیں تو بقیہ مسلمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader