Urdu book · کاروانِ ملّت

فرقہ وارانہ مسئلہ

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بالواسطہ طور پر شریک قرار پاتے ہیں۔ مسلمان پچھلے پچاس برس سے اسی جوابی روش پر قائم ہیں اور وہ اس کو جہاد سمجھتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ کا حل نہ ہونا بلکہ اس کا بڑھتے رہنا ثابت کرتا ہے کہ وہ خدا کی منشا کے خلاف ہے۔ اگر ان کا عمل خدا کی منشا کے مطابق ہوتا تو خدا کی مدد آتی اور مسئلہ کو حل کر دیتی۔ مگر جان و مال کی بے پناہ ہلاکت کے باوجود اب تک اس معاملے میں خدا کی مدد نہیں آئی۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ مسلمانوں کا یہ عمل خدا کے نقشہ کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اور ان کے رہنما اپنی اس روش کو مکمل طور پر بدل ڈالیں۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ صورت حال اور خراب ہو جائے۔ اب تک وہ انسانوں کی پکڑ میں تھے، آئندہ وہ خدائے ذو الجلال کی پکڑ میں آجائیں۔ قرآن و حدیث کی رہنمائی مسلمانوں کا یہ طریقہ منفی رد عمل کا طریقہ ہے، اور اس قسم کے رد عمل سے قرآن و حدیث میں صراحتہ منع کیا گیا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات انھیں کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبہ والا ہے (حم السجدہ ۳۴۔ ۳۶) حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان الله لا يمحوا السيئ ولكن يمحوا اللہ برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو السيئ بالحسن - ان الخبيث لا يمحوا بھلائی کے ذریعہ مٹاتا ہے۔ بری چیز کبھی بری الخبيث (مشکاۃ المصابیح، الجز الثانی، صفحہ ۸۴۵) چیز کو نہیں مٹاتی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس نے مذکورہ قرآنی آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے : امر الله المومنين بالصبر عند الغضب اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے غصہ کے وقت صبر کا، جہالت والحلم عند الجهل والعفو عند الإساءة کے وقت برداشت کا، اور برائی کے وقت معافی فاذا فعلوا ذلك عصمهم الله من الشيطان کا۔ جب وہ ایسا کریں تو اللہ انہیں شیطان سے محفوظ وخضع لهم عدوهم كانه ولی حمیم کر دے گا اور ان کے دشمن کو ان کے لیے جھکا دے گا۔ گویا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page