Urdu book · کاروانِ ملّت

فرقہ وارانہ مسئلہ

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

(تفسیر ابن کثیر، الجزر الرابع ، صفحه (۱۰۱) کہ وہ ان کا قریبی دوست ہو۔ مذکورہ آیت اور حدیث اور صحابی کی تشریح کو سامنے رکھ کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مسلمان جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ سراسر شریعت اسلامی کے خلاف ہے۔ مسلمان رد عمل کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں ، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ وہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلمان اپنے نام نہاد رہنماؤں کے بتائے ہوئے ال پر پچاس برس تک کم از کم پچاس ہزار بار عمل کر چکے اور ہمیشہ ناکام رہے۔ اب انھیں خدا اور رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کا تجربہ کرنا چاہیے ۔ وہ یہ کہ مسلمان برائی کے بدلہ میں بھلائی کی روش اختیار کریں۔ وہ شور کا جواب خاموشی سے دیں اور نفرت کے مقابلہ میں محبت کا مظاہرہ کریں۔ خدا نے اپنی دنیا کا جو نظام بنایا ہے اس میں برائی کا خاتمہ جوابی برائی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے کہ برائی کے جواب میں بھلائی کی جائے۔ خدا کی دنیا میں صبر کی طاقت غصہ سے زیادہ ہے۔ یہاں جہالت کے مقابلہ میں برداشت زیادہ وزن رکھتی ہے۔ یہاں انتقام کے بجائے معاف کر دینا اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتا ہے۔ یہاں دشمن کو زیر کرنے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ دوستی اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے ۔ نرمی اور تحمل کے طریقہ کی اہمیت حدیث میں مختلف طریقوں سے نہایت وضاحت کے ساتھ بتائی گئی ہے۔ اس سلسلہ کی ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ان الله رسول الٹر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تعالى رفيق يحب الرفق و يُعطى على الرفق مالا نرم و مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ يُعطى على العنف و مالا يعطى على ماسواه - - اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا اور ان الرفق لا يكون فى شئ الا زانه ولا نہ کسی اور چیز پر دیتا۔ نرمی جس چیز میں بھی ہو وہ اس يُنز ع من شيئ الا شانه - - - من يحرم کو زینت دے گی ۔ اور وہ جس چیز سے بھی اٹھ الرفق يحرم الخير (مشکاۃ المصابیح جائے وہ اس کو عیب دار بنا دے گی۔ جو شخص البحر الثالث ، صفحه ۱۴۰۷) نرمی سے خالی ہو وہ ہر بھلائی سے خالی ہو جائے گا ۔ صبر و اعراض ایک اعلیٰ ترین حفاظتی تدبیر ہے۔ اس تدبیر کے ذریعہ آپ فساد کے ہر ہم کو یقیناً ناکارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page