فرقہ وارانہ مسئلہ
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
(Defuse) کر سکتے ہیں۔ یہ حل ہم خرما و ہم ثواب کا مصداق ہے۔ اس کو اختیار کر کے مسلمان اپنے مسئلہ بھی حل کریں گے، اور اسی کے ساتھ انہیں عبادت کا ثواب بھی حاصل ہوگا، کیونکہ یہ حل خود خدا و رسول کی طرف سے ہمیں بتایا گیا ہے۔ مثبت طرزِ عمل کی مثال اوپر کوٹہ اور بدایوں کی مثال نقل کی گئی ہے جب کہ مسلمانوں نے منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کیا اور اس کا برا انجام ان کے سامنے آیا۔ اب اس کے برعکس دو مثالیں لیجئے جب کہ مسلمانوں نے جوابی کارروائی سے پرہیز کرتے ہوئے مثبت روش اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں ان کے جان و مال بربادی سے محفوظ رہے۔ فروری ۱۹۸۹ء میں شیوجنج (راجستھان) میں ہیڈ گوارڑ جنم شتابدی کے موقع پر ہندوؤں نے جلوس نکالا۔ جلوس مقامی جامع مسجد کے سامنے پہنچ کر اشتعال انگیز نعرے لگانے لگا۔ مگر وہاں کوئی مسلمان ان کا جواب دینے یا روک ٹوک کرنے کے لیے سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ مسجد کے امام مولانا خدا بخش بلوچ باہر نکلے۔ انھوں نے جوابی اشتعال کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سادہ طور پر یہ کیا کہ جلوس کے افراد سے دوستانہ ملاقات شروع کر دی۔ ان کے ”آداب عرض“ کو دیکھ کر جلوس کے نوجوان بھی ”مولوی جی نمستے، مولوی جی نمستے“ کے الفاظ بولنے لگے۔ اس کے بعد جلوس کا سارا زور اپنے آپ ختم ہوگیا۔ پانچ منٹ میں لوگ ٹھنڈے ہوکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ دوسری مثال دہلی کی ہے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۸۹ء کو وشو ہندو پرید کی طرف سے دہلی میں ”وراٹ ہندو سمیلَن“ منایا گیا۔ بوٹ کلب پر بڑی تعداد میں ہندو جمع ہوئے۔ وہاں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور مخالفانہ نعرے لگائے گئے ۔ ہندوؤں کا یہ ہجوم بوٹ کلب سے واپس ہوا تو وہ مسلم مخالف نعرے لگا رہا تھا ۔ مثلاً ”ہندو بن کر رہنا ہوگا، بندے ماترم کہنا ہوگا “ وغیرہ۔ انھوں نے اپنے راستہ میں مسجدوں کی بے حرمتی کی۔ نئی دہلی کی ایک مسجد کا بورڈ توڑ ڈالا ۔ وغیرہ یہ سب کچھ ہوا۔ مگر دہلی کے مسلمان پوری طرح اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ انھوں نے سنا مگر اپنے کان بند کر لیں۔ انھوں نے دیکھا مگر اپنی نظریں پھیر لیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ ۲۲ ستمبر کو دہلی میں کوئی فساد ہوا اور نہ اس کے بعد ۔ ہندوؤں کے مخالفانہ الفاظ وقتی شور و غل بن کر فضا میں تحلیل ہو گئے۔ یہ صرف دو مثالیں نہیں ہیں۔ اس طرح کی مثالیں بڑی تعداد میں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader