تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
رہنمائی ذمہ داری ایک آدمی کے ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے تو کوئی بھی ڈاکٹر بطور خود اس کو دوبارہ جوڑ نہیں سکتا۔ ایسے کیس میں ڈاکٹر جو کچھ کرتا ہے وہ حقیقتاً مدد ہے نہ کہ شفاء۔ ڈاکٹر صرف یہ کرتا ہے کہ وہ ہڈی کے دونوں سروں کو ٹھیک طور پر ایک دوسرے سے ملا دیتا ہے، اور پھر ٹریکشن (traction) وغیرہ کے ذریعہ عضو کے اوپر خارجی بندش قائم کر دیتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے۔ اس کے بعد دونوں ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑنے کا پورا عمل فطرت انجام دیتی ہے (17/821) یہی معاملہ پورے علم طب کا ہے۔ طبیب یا ڈاکٹر کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے کہ ”طبیعت مدبرۂ بدن“ کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔ اصل کام فطرت (طبیعت مدبرۂ بدن) کرتی ہے۔ معالج صرف اس کا مددگار بن جاتا ہے، وہ اس کے راستہ کی رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ قوم کے احیاء نو کا بھی ہے۔ کوئی قوم جب شکست سے دوچار ہوتی ہے تو اس کے اندر خود فطرت کے قائم کردہ نظام کے تحت حیات نو کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ یہاں رہنما کا کام بس وہی ہے جو کسی علاج میں ڈاکٹر کا ہوتا ہے۔ رہنما کو یہ کرنا ہے کہ وہ فطرت کے تحت ابھرنے والے عمل کے ابھرنے میں مدد دے، وہ اس کو غلط رخ کی طرف جانے سے بچائے۔ فطرت ہمیشہ انسان کو صحیح رخ پر متحرک کرتی ہے۔ یہ صرف غلط رہنما ہیں جو انسان کے ذہن کو بگاڑ کر اس کو رخ سے بے رخ کر دیتے ہیں، وہ اس کو تعمیر کے بجائے تخریب کے راستہ میں دوڑ دیتے ہیں۔ مسلمان ایک تاریخی استثناء تاریخ میں بار بار قوموں کے ساتھ شکست کا معاملہ پیش آیا ہے۔ مگر بار بار ایسا ہوا کہ ایک قوم گر کر بہت کم مدت میں دوبارہ اٹھ گئی۔ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی مثال ایک استثنائی مثال ہے۔ مسلمانوں کی مغلوبیت پر دو سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت گزر گئی۔ مگر اب تک ان کے اندر کیوں کو دور کرنے کا مذکورہ عمل جاری نہیں ہوا۔ اس لئے ان کی مغلوبیت بھی دوبارہ غلبہ میں تبدیل نہ ہوسکی۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ استثنائی معاملہ اس لئے پیش آیا کہ ان کے درمیان فطرت کا وہ عمل جاری نہ ہوسکا جو دوسری قوموں میں بلا تاخیر جاری ہو گیا۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ ہو کہ شکست کا واقعہ پیش آنے کے فوراً بعد ان کے درمیان ایسے رہنما اٹھ کھڑے ہوئے جو اصل حقیقت سے بے خبر تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader