Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی الٹی رہنمائی فطرت کے اوپر ایک قسم کا پردہ بن گئی۔ انھوں نے قوم کو مثبت ردعمل کے بجائے منفی ردعمل کی سمت میں موڑ دیا۔ شکست کا واقعہ پیش آنے کے بعد فطرت یہ سبق دیتی ہے کہ اسبابِ شکست کو دور کرو۔ مگر مسلمانوں کے رہنماؤں نے اپنے بے جا جوش کے تحت انھیں اکایا کہ تم ظالموں سے لڑ جاؤ۔ اس طرح یہ ہوا کہ جو وقت تعمیر خویش کی جدوجہد میں لگتا وہ تخریب غیر کی ناکام کوششوں میں ضائع ہوتا رہا۔ اور رتا دم تحریر بہت بڑے پیمانہ پر ضائع ہورہا ہے۔ دوسرا مسئلہ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۸۲۳-۱۷۶۲) شاہ ولی اللہ کے فرزند تھے۔ ان کے زمانہ میں ” نصرانی حکام کا حکم دہلی تک بے دغدغہ " جاری ہو چکا تھا۔ چنانچہ انھوں نے فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو گیا ہے (فتاوی عزیزی ، جلد اول)، انھوں نے اپنے ایک عربی شعر میں کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ انگریز جو دولت کے مالک ہیں انھوں نے دہلی اور کابل کے درمیان فساد برپا کر رکھا ہے: وإني أرى الافرنج أصحاب ثروة لقد أفسد و اما بين دهلي وكابل اس زمانہ کے ایک اور بزرگ سید احمد شہید بریلوی (۱۸۳۱ - ۱۷۸۶) نے اپنے ایک خط میں شاہ سلیمان حاکم چترال کو لکھا کہ عیسائی اور مشرکین جیسے برے لوگوں نے ہندوستان کے بیشتر حصہ پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور اس ملک کو ظلم و جور سے بھر دیا ہے نصاریٰ شکوہیدہ خصال و مشرکین بد مآل براکثر بلاد هند استیلا یافتند و آن دیار را به ظلمات ظلم و بيداد مشحون ساختند، سید صاحب نے ایک اور خط میں غلام حیدر خاں کو لکھا جو اس وقت ریاست گوالیار کے ایک فوجی افسر تھے۔ انھوں نے لکھا کہ ملک ہندوستان کا بیشتر حصہ غیر ملکیوں کے قبضہ میں چلا گیا ہے اور انھوں نے ہر جگہ ظلم و جور کا قانون جاری کر رکھا ہے۔ ہندوستان کے حاکموں کی حکومت برباد ہوگئی ہے اکثر بلاد ہندوستان بدست بیگانگاں افتادہ و ایشاں ہر جانبیاد و آئین جور و ظلم نهاده، ریاست رؤسائے ہندوستان بر باد رفته، تاریخ دعوت و عزیمت ، حصہ پنجم ، صفحه ۳۷۳ ہمارے بزرگوں نے یہ بات انیسویں صدی کے شروع میں کہی تھی۔ گویا انھوں نے تقریبا دو سو سال پہلے یہ اعلان کیا کہ برصغیر ہند کے مسلمان دوسری قوموں کے ظلم و ستم کی زد میں آگئے ہیں۔ آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page