تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
دو سو برس بعد بھی ہمارے رہنماؤں کے پاس کہنے کی جو بات ہے وہ یہی ہے۔ آج بھی مزید شدت کے ساتھ وہ اسی بات کو دہرارہے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے آج بھی متفقہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ مسلمان غیر قوموں کے ظلم و جور کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ ان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ ہر جگہ ان کو تعصب اور جارحانہ زیادتیوں کا سامنا پیش آرہا ہے۔ زیادہ اہم سوال دو سو سال سے مسلمانوں کے تمام اہل قلم اور اہل زبان یہ پکار رہے ہیں کہ مسلمانوں کے اوپر ظلم کیا جارہا ہے۔ مگر بات اسی پکار پر ختم نہیں ہو جاتی۔ فطرت کے مذکورہ قانون کی روشنی میں دیکھئے تو اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اتنی لمبی مدت گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی حالت بدلی کیوں نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی شکست اور مغلوبیت کی حالت بدستور جاری ہے۔ اتنی مدت یا اس سے بھی کم مدت میں دوسری دبی ہوئی قوئیں دوبارہ ابھر آئیں۔ پھر مسلمان ایک بار گرنے کے بعد دوبارہ کیوں نہیں ابھر رہے ہیں۔ یہ تاریخ کا ایک انوکھا معاملہ ہے جو صرف مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ معلوم تاریخ میں کسی بھی دوسری قوم کے ساتھ کبھی اس قسم کا ظالمانہ معاملہ نہیں آیا جو مسلسل سیکڑوں سال تک جاری رہے، پھر بھی اس کا خاتمہ نہ ہوسکے۔ تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ دباؤ سے قوئیں ابھرتی ہیں۔ ظلم و فساد ان کو نئی ترقیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ ناموافق صورت حال کا پیش آنا ہمیشہ قوموں کے لئے عروج کا نیا زینہ ثابت ہوا ہے۔ اس قانون اقوام کی تائید خود قرآن سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله ( البقره ۲۴۹ ) یعنی کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت ایک کثیر جماعت پر اللہ کے اذن سے غالب آئی ہے۔ اس آیت میں ”قلیل“ سے مراد صرف عددی قلت نہیں ہے۔ بلکہ ہر اعتبار سے قلت ہے۔ عربی زبان میں قلیل کا لفظ اس قسم کے جامع مفہوم کے لئے معروف ہے۔ حماسی شاعر نے کہا ہے : فان أك في شراركم قليل فاني في خياركم كثير قرآن کا یہ بیان تاریخ کے عین مطابق ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی (۱۸۸۹–۱۹۷۵) کی کتاب تاریخ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader