امت مسلمہ
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ وابستہ ہو گئی ہے۔ مسلمان مختلف اسباب کے تحت انڈسٹری میں داخل نہ ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جدید دنیا میں ایک مفلس قوم بن کر رہ گئے۔ یہاں بھی خدا کی مداخلت نے مسلمانوں کے مسئلے کو حل کر دیا۔ میری مراد اس واقعہ سے ہے جس کو ارضیات کے ماہرین جغرافی اتفاق (Accident of geography) کہتے ہیں۔ یعنی دنیا کے پٹرول کا ذخیرہ کا تقریباً نصف حصہ مسلم ملکوں (شرق اوسط) کی زمین کے نیچے ہونا۔ ایک طرف صنعتی دور میں پٹرول کی بے حد اہمیت پیدا ہوئی۔ دوسری طرف پٹرول کا بہت بڑا ذخیرہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے رکھ دیا گیا۔ بیسویں صدی کے نصف تک مسلم دنیا اقتصادی اعتبار سے بالکل بے حیثیت بنی ہوئی تھی، اسی صدی کا نصف ثانی شروع ہوا تو مسلم دنیا کے پاس اتنی دولت آچکی تھی جو اسراف کی حد تک ان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو۔ اس واقعہ نے آج مسلم دنیا کو عالمی اقتصادی سرگرمیوں کے نقشہ میں نہایت اہم مقام دے دیا ہے۔ امریکی میگزین نیوزویک (۱۸ فروری ۱۹۷۴ء) نے اپنے خصوصی مضمون میں لکھا تھا کہ ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ اسلامی فوجیں عرب جزیرہ نما پر چھا گئیں تاکہ وہ محمد کے پیغام کو پھیلائیں۔ اس کے بعد عربوں نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اس قسم کی کامیابی حاصل کی ہے۔ کسی زمانہ میں اگر تمام سٹرکیں روم کو جاتی تھیں تو آج تمام سٹرکیں ریاض کو جارہی ہیں۔ جہاں ہر روز مغربی قوموں کے نمائندے اتر رہے ہیں تاکہ وہ جدید دنیا کے قارون (سعودی گنگ) سے ملاقات کر سکیں۔ پہاڑ آخر کار محمد کی طرف آرہا ہے: The mountain, at last, is coming to Muhammad. ۳۔ تیسری اہم ترین چیز دعوتی مواقع کا کھلنا ہے۔ یہاں بھی مسلمانوں کی کوشش کے بغیر اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی مداخلت کے تحت دعوت کے زبردست نئے مواقع کھول دئے ہیں۔ جدید مواصلاتی ذرائع، آزادی کے انقلاب کے ذریعہ بے روک ٹوک مذہبی تبلیغ کی اجازت۔ سائنسی دریافتوں کے نتیجہ میں اسلام کی باتوں کی علمی تصدیق۔ مذاہب کے تنقیدی مطالعہ کے ذریعہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کا غیر تاریخی ثابت ہونا۔ مادی تہذیب کی ناکامی کی بنا پر لوگوں کا از سر نو دین خدا کی طرف رجوع۔ وغیرہ تاہم ان تمام جدید مواقع کے باوجود ایک شدید رکاوٹ ابھی تک باقی تھی۔ وہ ہے مارکسی اشتراکیت کے جبری نظام کی بنا پر دنیا کے ایک بڑے حصہ میں اسلام کے لئے اشاعت و عمل کے مواقع کا مسدود ہو جانا۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader