Urdu book · کاروانِ ملّت

امت مسلمہ

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

تحفہ دئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نئی صورت حال ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے روسی علاقہ میں قرآن کا داخلہ مطلق طور پر ممنوع تھا۔ یہ انقلابات جو پیش آئے، ان کا ایک پہلو یقیناً یہ تھا کہ اس سے امت مسلمہ کو تقویت حاصل ہو۔ وہ دوسری قوموں کی دستبرد سے محفوظ رہ کر ایک مستحکم اور خود کفیل قوم کی حیثیت سے اپنی جگہ بنائے، وہ دنیا میں اپنے سیاسی، اقتصادی اور فکری وجود کو قائم رکھ سکے۔ مگر یہ استحکام برائے استحکام نہ تھا۔ وہ خود ایک اعلیٰ مقصد کے لئے تھا۔ امت مسلمہ کے لئے قیام واستحکام کا یہ خدائی انتظام اس لئے تھا کہ وہ عزم اور یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس مقصد کی راہ میں لگائے جو خدا کی طرف سے اس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی دعوت و شہادت۔ یہ گویا والله يعصمك من الناس کے وعدہ الہی کی تکمیل تھی۔ تاکہ پیغمبر عربی کی امت بلغ ما أنزل إليك من ربك کی ذمہ داری کو بخوبی طور پر ادا کرے۔ ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکامی اس میں کوئی شک نہیں کہ بیسویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کی اعلیٰ ترین صورت میں مدد کی ہے۔ مگر یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے "ففٹی ففٹی" کا معاملہ ہے۔ جس طرح بارش برسانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، مگر اس بارش کو استعمال کرکے فصل اگانا انسان کی ذمہ داری ہے۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کے ضروری مواقع افراط کے ساتھ نازل کئے جاتے ہیں۔ مگر ان مواقع کو استعمال کرکے دین کا احیاء کرنا پھر بھی اہل اسلام کی ذمہ داری ہے۔ اگر اہل اسلام اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کریں تو مواقع کی فراوانی کے باوجود دین کے لئے ان کا مفید بننا ممکن نہ ہوسکے گا۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی طرف سے یہی صورت پیش آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا "پچاس فیصد" حصہ مزید اضافہ کے ساتھ ادا کر دیا۔ مگر مسلمان اپنا " پچاس فی صد" حصہ ادا کرنے میں سراسر ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراوانی کی حد تک مواقع کے حصول کے باوجود اسلام کی نئی تاریخ بنانے کا کام ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ ا۔ موجودہ صدی میں مسلمانوں کو جو سیاسی اقتدار ملا، اس کو انھوں نے صرف باہمی جنگ کو تیز تر کرنے میں استعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کا سیاسی طبقہ اب تک زیادہ تر یہ کر رہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page