امت مسلمہ
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے طبقوں کو محروم کر کے خود پورے سیاسی اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اقتدار کی اس باہمی جنگ میں مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اس طرح ختم کر دی گئیں جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ اس معاملہ میں اسلام پسند طبقہ نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس طبقہ نے یہ کیا کہ مسلم ملکوں میں آزادی آتے ہی وہ حکمران گروہ کے خلاف اپوزیشن پارٹی کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا‘‘ اسلامی قانون نافذ کرو‘‘ کے نام پر اس نے اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے سیاسی جنگ چھیڑ دی۔ اس طرح اسلام اور حکمران غیر ضروری طور پر ایک دوسرے کے حریف بن گئے۔ اسلام پسند طبقہ اگر اس کے برعکس یہ کرتا کہ وہ تدریجی اور روایتی انداز اختیار کرتا، اور سیاسی ٹھکراؤ سے پوری طرح اپنے آپ کو بچاتا تو مسلم حکمرانوں کی طرف سے اس کو زبردست تعاون ملتا۔ جیسا کہ مصر میں جمال عبد الناصر نے اپنے زمانہ حکومت (۱۹۷۰ - ۱۹۵۲) میں الاخوان المسلمون کو مصر کی وزارت تعلیم کی پیش کش کی۔ پاکستان میں محمد ایوب خاں نے اپنے زمانہ حکومت (۱۹۵۸ - ۶۹) میں جماعت اسلامی کو یہ پیش کش کی کہ اعلیٰ سطح کی ایک اسلامی یونیورسٹی بنا کر ان کے حوالے کر دی جائے اور وہ اس کے ذریعہ پاکستان کی نئی نسلوں کو اسلامی منہج پر تیار کریں۔ مگر مصر اور پاکستان دونوں جگہوں کے اسلام پسندوں نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح مسلم ملکوں کی سیاسی آزادی سیکولر لیڈروں اور اسی کے ساتھ اسلامی لیڈروں کی باہمی سیاسی آویزش کی نذر ہوگئی۔ ان مواقع کا کوئی فائدہ اب تک اسلام کو حاصل نہ ہوسکا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ اس معاملہ میں اسلام پسند رہنما دراصل اپنی اس غلطی کا شکار ہوئے جو انھوں نے دین کی سیاسی تعبیر کی صورت میں کی تھی۔ اس طبقہ کے مفکرین نے اسلام کی تصویر اس طرح بنائی کہ وہ دنیا میں تعمیر نظام کے ہم معنی بن گیا۔ جس طرح ڈیموکریسی یا سوشلزم تعمیر نظام کے ہم معنی ہے۔ اس بنا پر ان کا نشانہ عملی طور پر سیاست و حکومت بن گیا۔ ان کو کرنے کا اصل کام یہ نظر آیا کہ وہ موجودہ سیاسی نظام کو توڑیں تاکہ اس کی جگہ دوسرا سیاسی نظام قائم کر سکیں۔ اپنی اس تعبیر دین کی بنا پر وہ فوراً اپنی حکومتوں سے ٹکر اگئے۔ اس کے برعکس اگر انھوں نے دین کی تفسیر آخرت میں حصول نجات کی صورت میں کی ہوتی تو ان کا نشانہ دعوت ہوتا۔ وہ سب سے بڑا کام اس کو سمجھتے کہ اہل عالم کو آخرت کی حقیقت سے باخبر کر دیں۔ وہ انذار آخرت کو اپنا نشانہ بناتے نہ کہ قیام حکومت کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader