Urdu book · کاروانِ ملّت

امت مسلمہ

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

۲- حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ فرات سونے کا خزانہ ظاہر کرے۔ پس جو شخص اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے (عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : یوشک الفرات ان يحسر عن كنز من ذهب فمن حضر فلا یا خذ منه شيئا ، متفق عليه) اس حدیث میں دریائے فرات کی تمثیل غالباً پٹرول کی تعبیر ہے جس کو پگھلا ہوا سونا (Liquid gold) کہا جاتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول کا یہ خزانہ جب مسلم دنیا میں ظاہر ہو تو اس کو شخصی عیش یا ذاتی مقاصد میں لگانا درست نہیں۔ اس کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو دعوت الی اللہ اور ملت کے احیاء جیسے کاموں میں خرچ کیا جائے ۔ مگر اب تک کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس خزانہ کا بہت ہی کم حصہ حقیقی دینی مقصد میں استعمال ہوسکا ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ ذاتی حوصلوں کی تسکین میں خرچ ہو رہا ہے، اور دوسرا بڑا حصہ بے فائدہ جنگوں میں ضائع ہو رہا ہے۔ مثلاً عراق۔ ایران جنگ جو آٹھ سال (۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ تا ۲۰ اگست ۱۹۸۸) مسلسل جاری رہی۔ اس جنگ میں دونوں ملکوں کا ایک ہزار بلین (1,000 billion) ڈالر سے زیادہ برباد ہوا۔ یہ وہ نقصان ہے جو براہ راست ہوا۔ بالواسطہ نقصان کی مقدار ابھی کسی طرح اس سے کم نہیں۔ پٹرول کے خدائی خزانہ کا سب سے بڑا استعمال یہ تھا کہ اس کو دعوت الی اللہ کے مقاصد میں خرچ کیا جائے اور اسلام کے پیغام کو ہر خیمہ اور ہر مکان تک پہنچا دیا جائے۔ مگر یہی وہ کام ہے جو اب تک انجام نہ پاسکا۔ ہمارے رہنما مختلف ناموں سے اونچی اونچی عمارتیں کھڑی کرنے میں مصروف ہیں یا جلسوں اور کانفرنسوں کے ہنگامے جاری کرنے میں ۔ دعوت الی اللہ کے کام کو وہ اس طرح چھوڑے ہوئے ہیں جیسے کہ وہ اس کو جانتے ہی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئے ہیں مگر ایسا انھوں نے خود اپنی فطرت کی آواز کی بنا پر کیا ہے نہ کہ ہمارے دینی رہنماؤں کی تبلیغ و دعوت کے نتیجہ میں۔ ۳- موجودہ زمانہ میں جو دعوتی امکانات پیدا ہوئے ہیں، وہ ابھی تک غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دعوت کا یہ کام غیر مسلم قوموں میں انجام دینا ہے، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں مختلف اسباب سے ان قوموں کے خلاف اتنی زیادہ شکایتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ ان کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page